أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ , قَالَ: " لَا يَرِثُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا سِتٌّ: ابْنَةٌ , وَابْنَةُ ابْنٍ , وَأُمٌّ , وَامْرَأَةٌ , وَجَدَّةٌ , وَأُخْتُ , وَأَدْنَى الْعَصَبَةِ الِابْنُ , ثُمَّ ابْنُ الِابْنِ , ثُمَّ الْأَبُ , ثُمَّ الْجَدُّ , ثُمَّ الْأَخُ , ثُمَّ ابْنُ الْأَخِ , ثُمَّ الْعَمُّ , ثُمَّ ابْنُ الْعَمِّ , ثُمَّ بَنُو الْعَمِّ الْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ , قَالَ: وَجَدُّ الْجَدِّ بِمَنْزِلَةِ الْجَدِّ , إِذَا لَمْ يَكُنْ دُونَهُ أَبٌ , بِمَنْزِلَةِ ابْنِ الِابْنِ "
19036 - سفیان ثوری بیان کرتے ہیں: خواتین میں سے صرف چھ خواتین وارث بن سکتی ہیں بیٹی پوتی ماں بیوی دادی بہن اور عصبہ میں سے سے زیادہ قریب بیٹا ہو گا پھر پوتا ہو گا پھر باپ ہو گا پھر دادا ہو گا پھر بھائی پ ہو گا پھر بھتیجا ہو گا پھر چچا ہو گا پھر چچا زاد بھائی ہپو گا پھر چچا کی اولاد درجہ بدرجہ قریبی شمار ہو گی اور دادے کا بھی دادا کے حکم میں ہو گا جب اس کے نیچے باپ زندہ نہ ہو جس طرح پوتے کا حکم ہو تا ہے ۔
لَا يَرِثُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا سِتٌّ: ابْنَةٌ وَابْنَةُ ابْنٍ وَأُمٌّ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،