أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَجُلٌ أَسْوَدُ يَأْتِي أَبَا بَكْرٍ فَيُدْنِيهِ , وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ , حَتَّى بَعَثَ سَاعِيًا - أَوْ قَالَ: سَرِيَّةً - فَقَالَ: أَرْسِلْنِي مَعَهُ , فَقَالَ: «بَلْ تَمْكُثُ عِنْدَنَا , فَأَبَى , فَأَرْسَلَهُ مَعَهُ , وَاسْتَوْصَى بِهِ خَيْرًا» , فَلَمْ يَغِبْ عَنْهُ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى جَاءَ قَدْ قُطِعَتْ يَدُهُ , فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ فَاضَتْ عَيْنَاهُ , وَقَالَ: «مَا شَأْنُكَ؟» قَالَ: مَا زِدْتُ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يُوَلِّينِي شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ , فَخُنْتَهُ فَرِيضَةً وَاحِدَةً , فَقَطَعَ يَدِي , فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: «تَجِدُونَ الَّذِي قَطَعَ يَدَ هَذَا يَخُونَ أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ فَرِيضَةً , وَاللَّهِ لَئِنْ كُنْتُ صَادِقًا لَأُقِيدَنَّكَ مِنْهُ» , قَالَ: ثُمَّ أَدْنَاهُ وَلَمْ يُحَوِّلْ مَنْزِلَتَهُ الَّتِي كَانَتْ لَهُ مِنْهُ , قَالَ: وَكَانَ الرَّجُلُ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَقْرَأُ , فَإِذَا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ صَوْتَهُ قَالَ: «تَالَلَّهِ لَرَجُلٌ قَطَعَ هَذَا» , قَالَ: فَلَمْ يَعِرْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى فَقَدَ آلُ أَبِي بَكْرٍ حُلِيًّا لَهُمْ وَمَتَاعًا , فَقَالَ [ص:189] أَبُو بَكْرٍ: «طَرَقَ الْحَيَّ اللَّيْلَةَ» , فَقَامَ الْأَقْطَعُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ , وَرَفَعَ يَدَهُ الصَّحِيحَةَ وَالْأُخْرَى الَّتِي قُطِعَتْ , فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَظْهِرْ عَلَى مَنْ سَرَقَهُمْ , أَوْ نَحْوَ هَذَا , وَكَانَ مَعْمَرٌ رُبَّمَا يَقُولُ: اللَّهُمَّ أَظْهِرْ عَلَى مَنْ سَرَقَ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ الصَّالِحِينَ , قَالَ: فَمَا انْتَصَفَ النَّهَارُ حَتَّى ظَهَرُوا عَلَى الْمَتَاعِ عِنْدَهُ , فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: «وَيْلَكَ إِنَّكَ لَقَلِيلُ الْعِلْمِ بِاللَّهِ , فَأَمَرَ بِهِ , فَقُطِعَتْ رِجْلُهُ» قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: كَانَ إِذَا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ صَوْتَهُ مِنَ اللَّيْلِ , قَالَ: مَا لَيْلُكَ بِلَيْلِ سَارِقٍ
18774 - سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں ایک سیا ہ فام شخص حضرت ابو بکر کے پاس لایا گیا حضرت ابو بکر نے اسے اپنے قریب کر لیا اور حضرت ابو بکر نے اسے قرآں سکھایا کرتے تھے یہاں تک کہ حضرت ابو بکر نے فرمایا: تم ہمارے ہاں ٹھہرے رہو اس نے آپ کی بات نہیں مانی تو حضرت ابو بکر نےاسے اس ژخ سکے ساتھ بھیج دیا اور ان کے بارے میں بھلائی کی تلقین کی وہ شخص کچھ عرصہ غائب رہا پھر وہ آیا تو اس کا ایک ہاتھ کاٹ ا جا چکا تھا جب حضرت ابو بکر نے اسے دیکھا تو اس کی آنکھوں سے انسو جاری ہو گئے انہوں نے دریافت کیا: تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے بتایا: صرف یہ ہوا تھا کہ اس شخص مجھے کام کا اہلکار مقر رکیا میں نے ایک فریضے کی خیانت کی تو نے میرا ہاتھ کاٹ دیا حضر ت ابو بکر نے فرمایا: جس شخس نے اس کا ہاتھ کاٹا ہے تم اس شخص کو پاؤ گے کہ ا سنے خؤد بیس سے زیادہ اونٹوں میں خیانت کی ہو گی ۔
عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،