أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَدِمَ مَجْزَأَةُ بْنُ ثَوْرٍ - [ص:165] أَوْ شَقِيقُ بْنُ ثَوْرٍ - عَلَى عُمَرَ يُبَشِّرُهُ بِفَتْحِ تُسْتَرَ , فَلَمْ يَجِدْهُ فِي الْمَدِينَةِ , كَانَ غَائِبًا فِي أَرْضٍ لَهُ , فَأَتَاهُ , فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْحَائِطِ الَّذِي هُوَ فِيهِ كَبَّرَ , فَسَمِعَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَكْبِيرَهُ فَكَبَّرَ , فَجَعَلَ يُكَبِّرُ هَذَا وَهَذَا حَتَّى الْتَقَيَا , فَقَالَ عُمَرُ: «مَا عِنْدَكَ؟» قَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , إِنَّ اللَّهَ فَتَحَ عَلَيْنَا تُسْتَرَ , وَهِي كَذَا وَهِي كَذَا , وَهِي مِنْ أَرْضِ الْبَصْرَةِ - وَكَانَ يَخَافُ أَنْ يُحَوِّلَهَا إِلَى الْكُوفَةِ - فَقَالَ: «نَعَمْ , هِيَ مِنْ أَرْضِ الْبَصْرَةِ , هِيهْ هَلْ كَانَتْ مَغْرَبَةٌ تُخْبِرُنَاهَا؟» قَالَ: لَا , إِلَّا أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْعَرَبِ ارْتَدَّ , فَضَرَبْنَا عُنُقَهُ , قَالَ عُمَرُ: «وَيْحَكُمْ فَهَلَّا طَيَّنْتُمْ عَلَيْهِ بَابًا , وَفَتَحْتُمْ لَهُ كَوَّةً , فَأَطْعَمْتُمُوهُ كُلَّ يَوْمٍ مِنْهَا رَغِيفًا , وَسَقَيْتُمُوهُ كُوزًا مِنْ مَاءٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ , ثُمَّ عَرَضْتُمْ عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ , فَلَعَلَّهُ أَنْ يُرَاجِعَ» , ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَمْ أَحْضُرْ , وَلَمْ آمُرْ , وَلَمْ أَعْلَمْ»
18695 – محمد بن عبدالرحمٰن بن عبدالقاری اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: مخراۃ بن ثوریا شاید شقیق بن ثور حضرت عمر کے پا س آئے تاکہ انہیں تسترنتح ہونے کی خوشخبری سنائیں ان صاحب نے حضرت عمر کو مدینہ منورہ میں نہیں پایا حضرت عمر اپنی زمین پر تشریف لے گئے ہوئے تھے وہ وہاں چلے گئے جب وہ باغ کے پاس پہنچے جس میں حضرت عمر موجود تھے تو انہوں نے بلند آواز میں تکبیر کہی جب حضرت عمر نے ان کی تکبی رکی آواز سنی تو انہوں نے تکبیر کہی دنووں صاحبان تکبیر کہتے رہے یہاں تک کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے ملے تو حضرت عمر نے دریافت کیا : تمہارے پاس کیا اطلاع ہے ؟ انہوں نے کہا: اےا میر المومنین! میں انہیں پایا حضرت عمر اپنی زمین پر تشریف لے گئے ہوئے تھے وہ وہاں چلے گئے جب وہ باغ کے پاس پہنچے جس میں حضرت عمر موجود تھے تو انہوں نے بلند آوا زمیں تکبیر کہی جب حضرت عمر نے ان کی تکبیر کی آواز سنی تو انہوں نے بھی تکبیر کہی دونوں صاحبان تکبیر کہتے رہے ۔
أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · Snapshot book › Chapter on disbelief after faith · Hadith 18695