أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: لَمَّا اعْتَزَلْتُ الْحَرُورِيَّةَ فَكَانُوا فِي دَارٍ عَلَى حِدِّتِهِمْ فَقُلْتُ لِعَلِيٍّ [ص:158]: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , أَبْرِدْ عَنِ الصَّلَاةِ لَعَلِّي آتِي هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ فَأُكَلِّمَهُمْ , قَالَ: إِنِّي أَتَخَوَّفُهُمْ عَلَيْكَ قُلْتُ: كَلَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى , قَالَ: فَلَبِسْتُ أَحْسَنَ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ مِنْ هَذِهِ الْيَمَانِيَّةِ , قَالَ: ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهِمْ وَهُمْ قَائِلُونَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ , قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَى قَوْمٍ لَمْ أَرَ قَوْمًا قَطُّ أَشَدَّ اجْتِهَادًا مِنْهُمْ , أَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا ثَفِنُ الْإِبِلِ , وَوُجُوهُهُمْ مُعَلَّمَةٌ مِنْ آثَارِ السُّجُودِ , قَالَ: فَدَخَلْتُ فَقَالُوا: مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ مَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: جِئْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ نَزَلَ الْوَحْيُ , وَهُمْ أَعْلَمُ بِتَأْوِيلِهِ , فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تُحَدِّثُوهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: وَاللَّهِ لَنُحَدِّثَنَّهُ , قَالَ: قُلْتُ: أَخْبِرُونِي مَا تَنْقُمُونَ عَلَى ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَتَنِهِ وَأَوَّلِ مَنْ آمَنَ بِهِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ؟ " قَالُوا: نَنْقُمُ عَلَيْهِ ثَلَاثًا , قَالَ: قُلْتُ: وَمَا هُنَّ؟ قَالُوا: أَوَّلُهُنَّ أَنَّهُ حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي دِينِ اللَّهِ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ: {إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ} [الأنعام: 57] , قَالَ: قُلْتُ: وَمَاذَا قَالُوا: وَقَاتَلَ وَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ لَئِنْ كَانُوا كُفَّارًا لَقَدْ حَلَّتْ لَهُ أَمْوَالُهُمْ وَلَئِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ لَقَدْ حُرِّمَتْ عَلَيْهِ دِمَاؤُهُمْ؟ قَالَ: قُلْتُ: وَمَاذَا قَالُوا: مَحَا نَفْسَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينِ , فَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَهُوَ أَمِيرُ الْكَافِرِينَ. قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَرَأْتُ عَلَيْكُمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ الْمُحْكَمِ وَحَدَّثْتُكُمْ مِنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَا تُنْكِرُونَ , أَتَرْجِعُونَ؟ قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ: قُلْتُ: أَمَّا قَوْلُكُمْ: حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي [ص:159] دِينِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ} [المائدة: 95] إِلَى قَوْلِهِ: {يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ} [المائدة: 95] وَقَالَ فِي الْمَرْأَةِ وَزَوْجِهَا: {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا} [النساء: 35] أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ أَحْكُمُ الرِّجَالِ فِي حَقْنِ دِمَائِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَإِصْلَاحِ ذَاتِ بَيْنِهِمْ أَحَقُّ أَمْ فِي أَرْنَبٍ ثَمَنُهَا رُبْعُ دِرْهَمٍ؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ بَلْ فِي حَقْنِ دِمَائِهِمْ وَإِصْلَاحِ ذَاتِ بَيْنِهِمْ , قَالَ: أَخَرَجْتُ مِنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ , قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُكُمْ: إِنَّهُ قَاتَلَ وَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ , أَتَسْبُونَ أُمَّكُمْ عَائِشَةَ أَمْ تَسْتَحِلُّونَ مِنْهَا مَا تَسْتَحِلُّونَ مِنْ غَيْرِهَا , فَقَدْ كَفَرْتُمْ وَإِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّهَا لَيْسَتْ أُمَّ الْمُؤْمِنِينِ فَقَدْ كَفَرْتُمْ وَخَرَجْتُمْ مِنَ الْإِسْلَامِ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ} [الأحزاب: 6] فَأَنْتُمْ مُتَرَدِّدُونَ بَيْنَ ضَلَالَتَيْنِ فَاخْتَارُوا أَيَّتَهُمَا شِئْتُمْ , أَخَرَجْتُ مِنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ , قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُكُمْ: مَحَا نَفْسَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ , فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا قُرَيْشًا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى أَنْ يَكْتُبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ كِتَابًا , فَقَالَ: «اكْتُبْ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» فَقَالُوا: وَاللَّهِ لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا صَدَدْنَاكَ عَنِ الْبَيْتِ وَلَا قَاتَلْنَاكَ وَلَكِنِ اكْتُبْ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , فَقَالَ: " وَاللَّهُ إِنِّي لَرَسُولُ اللَّهِ حَقًّا وَإِنْ كَذَّبْتُمُونِي [ص:160] اكْتُبْ يَا عَلِيُّ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ " فَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَفْضَلَ مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَخَرَجْتُ مِنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ , «فَرَجَعَ مِنْهُمْ عِشْرُونَ أَلْفًا وَبَقِيَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ آلَافٍ فَقُتِلُوا»
18678 - حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں: جب خوارج نے علیحدگی اختیار کی تو وہ ایک جگہ پر علیحدہ جا کر رہنے لگے میں نے حضرت علی سے عرض کی : اے امیر المومنین آپ نماز کو ذرامؤخر کر دیں تاکہ میں ان لوگوں کے پاس سے ہو کے آؤں اور ان سے بات چیت کروں حضرت علی نے فرمایا: مجھے اندئشہ ہے کہ وہ لوگ تمہیں نقصان نہ پہنچائیں میں نے عرض کی : اگر اللہ نے چاہا تو ایسا ہر گز نہیں ہو گا حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں میں نے اپنے پاس موجود سب سے بہرین یمانی لباس پہنا پھر میں ان کے پاس گیا وہ لوگ اس وقت دو پہر کے وقت آرام کر رہے تھے میں ایسے لوگوں کے پاس گیا کہ میں نے ان سے زیادہ محنتی کوئی شخص نہیں دیکھا کہ ان کے ہارھ انوٹوں کے ثفن کی مانند تھے اور ان کے شہروں پر بکثرت سجدوں کے نشانات تھے میں وہاں گیا تو انہوں نے کہا: اے ابن عباس آپ کو خؤش آمیدی ہے آپ کس سلسلے میں تشریف لائے ہیں میں نے کہا: میں تم لوگوں کے ساتھ اللہ کے رسول کے اصحاب کے حؤالےسے بات چیت کرنے کے لئے آیا ہوں جن پر وحی نازل ہوئی تھی اور یہ لوگ وحی کے مفہوم کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں ان مین ست بعض نے دوسروں سے کہا: کہ تم ان کے ساتگ بات چیت نہ کرو اور بعض نے کہا: اللہ کی قسم! ہم ان کےساتھ بات چیت کریں گے حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں: میں نےکہا: تم لوگ مجھے بتاؤ کہ تم لوگ اللہ کے رسول کے چچا سے کیا اختلاف رکھتے ہو؟ جو اللہ تعالیٰ کے رسول کے داماد بھئ ہیں اور آپ پر ایمان لانےوالے پہلے فرد ہیں اور اللہ کے رسول کے اصحاب ان کے ساتھ ہیں ان لوگوں نے کہا: ہمیں ان ہر تین اعتراضات ہیں میں نے دریافت کیا: وہ اعتراضات کیا ہیں؟ ان لوگوں نے کہا: پہلی بات تو یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کے دین کے معاملے میں انسانوں کو ثالث بنا دیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد رفرمایا ہے : حکم صرف اللہ کا ہو گا ۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · Snapshot book › Chapter What came in Haruriyya · Hadith 18678