أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ الْجُهَنِيُّ , أَنَّهُ كَانَ فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّذِينَ سَارُوا إِلَى الْخَوَارِجِ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ , إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ , لَيْسَتَ قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ بِشَيْءٍ , وَلَا صَلَاتُكُمْ إِلَى صَلَاتِهِمْ بِشَيْءٍ , وَلَا صِيَامُكُمْ إِلَى صِيَامِهِمْ بِشَيْءٍ , يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَحْسَبُونَ أَنَّهُ لَهُمْ , وَهُوَ عَلَيْهِمْ , لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ , [ص:148] يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ , كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ , لَوْ يَعْلَمُ الْجَيْشُ الَّذِينَ يُصِيبُونَهُمْ , مَا قُضِيَ لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , لَاتَّكَلُوا عَنِ الْعَمَلِ , وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا لَهُ عَضُدٌ وَلَيْسَ لَهُ ذِرَاعٌ عَلَى عَضُدِهِ , مِثْلُ حَلَمَةِ الثَّدْيِ عَلَيْهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ» أَفَتَذْهَبُونَ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَأَهْلِ الشَّامِ وَتَتْرُكُونَ هَؤُلَاءِ يَخْلُفُونَكُمْ فِي دِيَارِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ , وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ , فَإِنَّهُمْ قَدْ سَفَكُوا الدَّمَ الْحَرَامَ , وَأَغَارُوا فِي سَرْحِ النَّاسِ , فَسِيرُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ تَعَالَى. قَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ: فَنَزَّلَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ مَنْزِلًا مَنْزِلًا , حَتَّى قَالَ: مَرَرْنَا عَلَى قَنْطَرَةٍ قَالَ: فَلَمَّا الْتَقَيْنَا وَعَلَى الْخَوَارِجِ يَوْمَئِذٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الرَّاسِبِيُّ فَقَالَ لَهُمْ: أَلْقُوا الرِّمَاحَ , وَسُلُّوا سُيُوفَكُمْ مِنْ جُفُونِهَا , فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُنَاشِدُوكُمْ , كَمَا نَاشَدُوكُمْ , يَوْمَ حَرُورَاءَ , فَتَرْجِعُوا , فَوَحَشُوا بِرِمَاحِهِمْ , وَسَلُّوا السُّيُوفَ , قَالَ: وَشَجَرَهُمُ النَّاسُ بِرِمَاحِهِمْ قَالَ: وَقُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَمَا أُصِيبَ مِنَ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ إِلَّا رَجُلَانِ , فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «الْتَمِسُوا فِيهِمْ الْمُخْدَجَ» فَلَمْ يَجِدُوهُ قَالَ: فَقَامَ عَلِيٌّ بِنَفْسِهِ , حَتَّى أَتَى نَاسًا , قَدْ قُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فَقَالَ: «أَخْرِجُوهُمْ» , فَوَجَدُوهُ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ , فَكَبَّرَ , ثُمَّ قَالَ: «صَدَقَ اللَّهُ , وَبَلَّغَ رَسُولُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَقَامَ إِلَيْهِ عَبِيدَةُ السَّلْمَانِيُّ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ سَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ [ص:149] مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: إِي وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ حَتَّى اسْتَحْلَفَهُ ثَلَاثًا , وَهُوَ يَحْلِفُ،
18650 - حضرت زید بن وہب جہنی بیان کرتے ہیں: وہ اس لشکر مین موجو تھے جو لوگ حضرت علی کے ساتھ جو خارج کے ساتھ جنگ کر نے کے لئے گئے تھے ۔ حضرت علی نے فرمایا: اے لوگو میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : میری امت میں ایک گروہ نکلے گا جو قرآن پڑھیں گے ان کی تلاوت کے سامنے تمہاری تلاوت کی کوئی چیز نہیں ہو گی ان کی نماز کے مقابلے میں تمہاری نمازیں کوئی چیز نہیں ہوں گی ان کے روزوں کے سامنے تمہارے روزے کوئی چیز نہیں ہوں گے وہ لوگ قرآن پرھیں گے وہ یہ گمان کریں گے کہوہ ان کے حق میں ہے حالانکہ وہ ان کے خلاف ہوگا ان کی نماز ان کے حقل سے آگے نہیں جائےگی وہ لوگ اسلام سے یوں نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانے کے پا ر ہو جاتا ہے جو لشکر ان لوگوں کو قتل کرے گا اگر اس لشکر کو یہ پتہ چل جائے کہ ان کے نبی کی زبانی ان لوگوں کے لئے فیصلہ دیا گیا ہے تو وہ دیگر اعمال سے غاف ل ہو جائیں گے اور ان لوگوں کی نشانی یہ ہت کہ ان مین سے ایک ایسا شخص ہو گا جس کا ایک بازو ہو گا لیکن اس کی کلائی نہیں ہو گی۔
زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ الْجُهَنِيِّ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · Snapshot book › Chapter What came in Haruriyya · Hadith 18650