مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ مَا يُعَدُّ وَكَيْفَ تُؤْخَذُ الصَّدَقَةُ؟ · حديث 6816
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفيِّ، أَنَّهُ أَتَى عُمَرَ وَكَانَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الطَّائِفِ، فَقَالَ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إنَّ أَهْلَ الْمَاشِيَةِ يَزْعُمُونَ أَنَّا نَعُدُّ عَلَيْهِمُ الصَّغِيرَةَ، وَلَا نَأْخْذُهَا قَالَ: " فَاعْتَدُّوا عَلَيْهَا، وَلَا تَأْخُذُوهَا حَتَّى السَّخْلَةِ يُرِيحُهَا الرَّاعِي عَلَى يَدَيْهِ، وَقُلْ لَهُمْ: إِنَّا نَدَعُ الرُّبَّى، وَفَحْلَ الْغَنَمِ، وَالْوَالِدَ، وَشَاةَ اللَّحْمِ، وَخُذْ مِنَ الْعَنَاقِ، وَهِيَ بَسْطَةُ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الرُّبَّى الَّتِي [ص:15] وَلَدُهَا مَعَهَا يَسْعَى، وَالْوَالِدَ الَّتِي فِي بَطْنِهَا وَلَدُهَا " قَالَ: ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ بِجَفْنَةِ لَحْمٍ يَحْمِلُهَا رَهْطٌ فَوُضِعَتْ عِنْدَ عُمَرَ وَذَلِكَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَالَ: ثُمَّ اعْتَزَلَ الْقَوْمُ الَّذِينَ حَمَلُوهَا، فَقَالَ لَهُمْ عُمَرُ: «ادْنُوا قَاتَلَ اللَّهَ قَوْمًا يَرْغَبُونَ عَنْ هَؤُلَاءِ»، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّهُمْ لَا يَرْغَبُونَ عَنْهُمْ، وَلَكِنَّهُمْ يَسْتَأْثِرُونَ عَلَيْهِمْ قَالَ: «فَكَانَتْ أَهْوَنَ عِنْدَهُ» قَالَ: ثُمَّ أَذَّنَ أَبُو مَحْذُورَةَ، فَقَالَ عُمَرُ: «أَمَا خَشِيتَ أَنْ يَنْخَرِقَ مُرَيَطْاؤُكَ؟» قَالَ: أَحْبَبْتُ أَنْ أُسْمِعَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ عُمَرُ: «إنَّ أَرْضَكُمْ يَا مَعْشَرَ أَهْلِ تِهَامَةَ حَارَّةٌ، فَأَبْرَدَ ثُمَّ أَبْرَدَ، ثُمَّ أَذَّنَ، ثُمَّ ثَوَّبَ آتِكَ»، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ بَيْتَهُ، وَقَدْ سَتَرُوهُ بِأُدْمٍ مَنْقُوشَةٍ، فَقَالَ عُمَرُ: «لَوْ كُنْتُمْ جَعَلْتَمْ مَكَانَ هَذَا مَسُوحًا كَانَ أَحْمَلَ لِلْغُبَارِ مِنْ هَذَا»
6816 – سفیان بن عبداللہ ثقفی فرماتے ہیں: وہ حضرت عمر کے پاس آئے حضرت عمر نے اُنہیں طائف کا گور نر مقرر کیا تھا اُنہوں نے حضرت عمر سے کہا: اے امیر المومنین! جانوروں کے مالکان یہ کہتے ہیں کہ ہم زکوٰۃ کے جانور شمار کرتے ہوئے چھوٹے بچے کو تو شمار کر لیتے تھے لیکن زکوٰۃ میں اُس بچہ کو وصول نہیں کرتے ہیں۔ تو حضرت عمر نے فرمایا: تم لوگ اُس کو شمار کرو گے لیکن وصول نہیں کرو گے یہاں تک کہ تم اُس بچہ جانور کو بھی شمار کرو گے جسے چرواہا اپنے ہاتھوں پر اُٹھا کر لاتا ہے اور تم اُن سے کہہ دو کے ہم ایسا جانور جس کا بچہ اُس کے ساتھ دوڑتا ہو بکرا حاملہ جانور اور موٹی تازی بکری کو ترک کر دیں گے اور تم عناق کو وصول کر لو اور یہ ہمارے اور تمہارے درمیان کشادگی ہوگی ۔ ربی وہ جانور ہے جس کا بچہ اُس کے ساتھ دوڑتا پھرتا ہے اور والد سے مراد وہ جانور ہے جس کے پیٹ میں اُس کا بچہ موجود ہو ۔راوی بیان کرتے ہیں: پھر صفوان بن اُمیہ نے اُن کی طرف ایک تھال بھیجا جو گوشت کا تھا جسے کچھ لوگوں نے اُٹھایا ہوا تھا اُسے حضرت عمر کے پا س لایا گیا یہ مسجد حرام کی بات ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جو لوگ اُسے اُٹھا کر لائے تھے وہ ایک طرف ہو گئے حضرت عمر نے کہا: تم لوگ قریب ہو جاؤ! اللہ تعالیٰ اُن کو بر باد کر دے جو اُن لوگوں سے منہ موڑتے ہیں! تو ایک صاحب نے عرض کی : اے امیر المومنین! ان لوگوں نے ان سے منہ نہیں موڑا ہے بلکہ یہ اپنے اوپر ترجیح دے رہے ہیں۔ تو حضرت عمر نے فرمایا: یہ اُس کے نزدیک زیادہ آسان ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر حضرت ابو محذورہ نے اذان دی تو حضرت عمر نے فرمایا: کیا تمہیں یہ ڈر نہیں لگا کہ تمہارے حلق کا کوا پھٹ جائے گا ۔ اُنہوں نے عرض کی : اے امیر المومنین! میں نے یہ بات پسند کی کہ آپ تک آواز آئے ۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا: اے تہامہ کے رہنے والوں ! تمہاری سر زمین گرم ہے تو تم ٹھنڈک لینے دیا کرو جب ٹھنڈک ہو جائے تو پھر مؤذن آذان دے پھر وہ تثویب کہے میں تمہار ے پاس آجاؤں گا ۔ پھر حضرت عمر صفوان بن اُمیہ کے پاس اُس کے گھر تشریف لے گئے تو اُنہوں نے نقش و نگار والے چمڑے کے پردے لٹکائے ہوئے تھے تو حضرت عمر نےفر مایا: اگر تم اس کی جگہ بالوں سے بنی ہوئی موٹی سی چادر لگا دیتے تو یہ اُس کی بے نسبت زیادہ بہتر طور پر غبار سے حفاظت کرتا ہے ۔
سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، ← عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · Zakat Book › Chapter of what is prepared and how is charity received? · Hadith 6816
