مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ لَا صَدَقَةَ فِي مَالٍ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ · حديث 7044
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، فِي رَجُلٍ اسْتَفَادَ مَالًا فَمَكَثَ حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَحِلَّ فِيهِ الزَّكَاةُ إِلَا يَوْمٌ وَاحِدٌ أَصَابَ أَلْفًا؟ قَالَ: «يُزَكِّيهِمَا جَمِيعًا، وَإِذَا كَانَ لَهُ مَالٌ قَدْ كَانَ يُزَكِّيهِ، فَذَهَبَ إِلَا دِرْهَمًا وَاحِدًا، ثُمَّ أَصَابَ مَالًا قَبْلَ وَقْتِ زَكَاتِهِ بِشَهْرٍ أَوْ شَهْرَيْنِ، أَوْ أَقَلَّ، ثُمَّ سُرِقَ ذَلِكَ الدِّرْهَمُ» قَالَ: «يُزَكِّي مَالَهُ الَّذِي اسْتَفَادَهُ لِأَنَّهُ كَانَ قَدْ أَصَابَ الْمَالَ، وَالدَّرْهَمُ فِي مِلْكِهِ»، قَالَ سُفْيَانُ: «وَإِنِ ابْتَاعَ بَزًّا بِمِائَتَيْنِ، فَزَادَ عِنْدَ الْحَوْلِ حَتَّى بَلَغَ أَلْفًا زَكَّى الْأَلْفَ، فَإِنْ نَقَصَ بَعْدَ مَا بَلَغَ الْأَلْفَ إِلَى مِائَةٍ، لَمْ يُزَكِّهَا»، قَالَ سُفْيَانُ: فِي [ص:81] رَجُلٍ اشْتَرَى دَابَّةً أَوْ سِلْعَةً لِتِجَارَةٍ بِمِائَةٍ وَتِسْعِينَ، ثُمَّ نَمَتْ حَتَّى بَلَغَتْ قِيمَتُهَا أَلْفًا، أَوْ أَكْثَرَ؟ قَالَ: «لَيْسَ فِيهَا زَكَاةٌ حَتَّى يَصْرِفَهَا فِي غَيْرِهِ لِأَنَّ الثَّمَنَ الَّذِي اشْتَرَاهَا بِهِ لَمْ يَكُنْ فِيهِ زَكَاةٌ، فَإِذَا صَرَفَهَا فِي غَيْرِهَا لَمْ يُزَكِّهَا حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ، وَإِذَا اشْتَرَاهَا بِمِائَتَيْنِ، فَبَلَغَتْ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ، فَلَيْسَ عَلَيْهِ فِيهَا زَكَاةٌ وَإِنِ اشْتَرَاهَا بِمِائَتَيْنِ، فَبَلَغَتْ أَلْفًا فَعَلَيْهِ زَكَاةُ الْأَلْفِ؛ لِأَنَّ الْأَصْلَ كَانَتْ فِيهِ الزَّكَاةُ» قَالَ: «إِذَا اشْتَرَى رَجُلٌ سِلْعَةً لِلتِّجَارَةِ، ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَمْسِكَهَا بَعْدُ، فَقَدْ نَقَضَ التِّجَارَةَ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَجْعَلَهَا فِي تِجَارَةٍ، فَلَيْسَ عَلَيْهِ فِيهَا زَكَاةٌ حَتَّى يَصْرِفَهَا» قَالَ سُفْيَانُ فِي رَجُلٍ لَهُ عَلَى رَجُلٍ مِائَتَا دِرْهَمٍ فَقَضَاهُ مِائَةَ دِرْهَمٍ؟: «فَلَيْسَ عَلَيْهِ فِيهَا زَكَاةٌ حَتَّى يَأَخُذَ الْأُخْرَى، إِلَا أَنْ يَكُونَ عِنْدَهُ مَالٌ، فَيَضَعُهَا مَعَ مَالِهِ، فَيُزَكَّيْهَا فَإِنْ أَخَذَ الْمِائَتَيْنِ، وَلَيْسَ عِنْدَهُ مَالٌ غَيْرَهُمَا زَكَّى الْمِائَتَيْنِ مَرَّةً لِأَنَّهُ إِذَا أَخَذَ مِنْهَا خَمْسَةَ دَرَاهِمَ لَمْ يَكُنْ فِي بَقِيَّتِهَا مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ» قَالَ: «وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ بَزٌّ فَقَوَّمَهُ قِيمَةً فَبَلَغَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، فَلَمْ يُزَكِّهِ حَتَّى نَقَصَ إِلَى خَمْسِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَعَلَيْهِ زَكَاةُ الْأَلْفِ، وَإِنْ كَانَ قَوَّمَهُ خَمْسَ مِائَةٍ، ثُمَّ تَرَكَهُ حَتَّى بَلَغَ أَلْفًا فَلَيْسَ عَلَيْهِ إِلَا زَكَاةَ خَمْسِ مِائَةٍ، وَإِنْ كَانَ عِنْدَهُ بَزٌّ فَقَوَّمَهَا مِائَةً حَتَّى بَلَغَ أَلْفًا فَلَيْسَ فِيهِ»
سفیان ثوری ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں: جسے مال حاصل ہوتا ہے اور وہ ٹھہرا رہتا ہے یہاں تک کہ اُس کے اور اُس پر زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہونے میں صرف ایک دن باقی رہ جاتا ہے اُس دن اُسے ایک ہزار حاصل ہوتے ہیں تو سفیان ثور ی فرماتے ہیں: وہ مکمل مال کی یعنی اُن دونوں کی زکوٰۃ ادا کرے گا اور اگر کسی شخص کے پاس اتنا مال موجود ہو جس کی وہ زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور پھر اُس کا مال رخصت ہو جائے صرف ایک درہم باقی بچے اور پھر زکوٰۃ کے متعین وقت سے ایک یا دو ماہ پہلے اُسے مزید مال حاصل ہو یا اس سے بھی کم پہلے حاصل ہو جائے پھر وہ ایک درہم چوری ہو جائے تو سفیان ثوری فرماتے ہیں: وہ شخص اپنے اُس حاصل ہونے والے مال کی زکوٰۃ ادا کرے گا کیونکہ وہ اُس کے مال تک پہنچ گیا تھا تو وہ درہم اُس کی ملکیت میں تھا ۔سفیان فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص دو سو کے عوض کپڑا خرید لیتا ہے اور وہ مال ایک سال گزرنے سے پہلے ایک ہزار تک پہنچ جاتا ہے تو وہ ایک ہزار کی زکوٰۃ ادا کرے گا اور اگر وہ ایک ہزار تک پہنچنے کے بعد کم ہو کر ایک سو تک آجاتا ہے تو پھر وہ اُس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا ۔سفیان ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں: جو کوئی سامان یا تجارت کے لیے ایک سو نوے کے عوض میں خریدتا ہے پھر اُس مال میں اضافہ ہونا شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ اُس کی قیمت ایک ہزار یا اُس سے زیادہ ہو جاتی ہے تو سفیان فرماتے ہیں: اس میں زکوٰۃ کی ادائیگی اُس وقت تک لازم نہیں ہو گی جب تک وہ اسے دوسری صورت حال میں نہیں پھیر دیتا کیونکہ جس چیز کے عوض میں اس نے اُسے خریدا تھا اُس میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوئی جب وہ اُسے دوسری صورت حال میں پھیر دے گا تو پھر وہ اُس کی زکوٰۃ اُس وقت تک ادا نہیں کرے گا جب تک اُس مال پر ایک سال نہیں گزر جاتا اور اگر اُس شخص نے دو سو درہم میں اُسے خریدا تھا اور پھر اُن کی قیمت کم ہو کر دس درہم رہ جاتی ہے تو اُس پر اپس کے مال میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی لیکن اگر اُس نے اُسے دو سو درہم میں خریدا تھا اور اُس کی قیمت ایک ہزار درہم تک پہنچ جاتی ہے تو اب اُس شخص پر ایک ہزار درہم کی زکوٰۃ لازم ہو گی کیونکہ اُس کے پاس جو اصل تھی اُس میں زکوٰۃ لازم ہوئی تھی ۔ سفیان ثوری یہ بھی فرماتے ہیں: جب کوئی شخص تجارت کے لیے کوئی سامان خریدے اور بعد میں یہ اُسے مناسب لگے کہ وہ سامان اپنے پاس رکھ لے تو اب تجارت کا حکم ختم ہو جائے گا پھر اگر اُسے بعد میں یہ مناسب لگتا ہے کہ اب اپس مال کو تجارت کے لیے استعمال کرے تو اُس پر اُس سامان میں زکوٰۃ اُس وقت تک لازم نہیں ہو گی جب تک وہ اُسے پھیر نہیں دیتا
الثَّوْرِيِّ، فِي رَجُلٍ اسْتَفَادَ مَالًا فَمَكَثَ حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · Zakat Book › Chapter without charity in money until a year has passed · Hadith 7044
