مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ مَوْضِعِ الصَّدَقَةِ، وَدَفْعِ الصَّدَقَةِ فِي مَوَاضِعِهَا · حديث 6924
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ: إِنَّ لِي مَالًا أَفَأُزَكِّيهِ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «خَسِئَ الْأَبْعَدُ» قَالُوا: إِنَّهُ يَقُولُ: إِنَّ عِنْدِيَ مَالًا، فَأَيْنَ أَضَعُ زَكَاتَهُ؟ قَالَ: «أَفَلَا يَقُولُ هَكَذَا جَاءَنِي جَثْوَةٌ مِنْ جِثَا جَهَنَّمَ عَلَيْهِ كِسَاءٌ أَسْوَدُ مِنْ وَبَرِ الْكِلَابِ، أَدِّهَا إِلَى وُلَاتِكَ، وَإِنْ تَمَزَّقُوا لُحُومَ الْكِلَابِ عَلَى مَوَائِدِهِمْ» قَالَ مَعْمَرٌ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَمَّادٍ فَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ ابْنُ عُمَرَ قَالَهُ
6924 – قتادہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس آیا اور بولا : میرے پاس کچھ مال ہے کیا میں اُسکی زکوٰۃ ادا کر دوں؟ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا: دور کا شخص رسوا ہو گیا ہے ! لوگوں نے کہا: یہ شخص کہہ رہا ہے کہ میرے پاس مال ہے تو میں اس کی زکوٰۃ کہاں ادا کروں ؟ تو حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا: کیا یہ شخص ایسا نہیں کہتا کہ میرے پاس جہنم کے اہل میں سے ایک شخص آیا جس پر کتے کی کھال سے بنی ہوئی ایک سیاہ چادر موجود تھی تم اس زکوٰۃ کو اُن لوگوں کے سپرد کرو جو اس کے نگران ہیں اگرچہ وہ لوگ اپنے دستر خوانوں پر کتے کا گوشت کھاتے ہوں۔ معمر بیان کرتے ہیں: میں نے حماد سے اس بات کا تذکرہ کیا تو اُنہوں نے اس بات کا انکار کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے یہ بات کہی ہو گی ۔
جاء رجل إلى ابن عمر ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · Zakat Book › Chapter of the location of charity, and payment of charity in its places · Hadith 6924
