مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ فِتْنَةِ الْقَبْرِ · حديث 6749
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ الْوَادِعِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْنَا: إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَالْمَوْتُ قَبْلَ لِقَاءِ اللَّهِ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَكُمْ بِحَدِيثٍ لَمْ تَسْأَلُوهُ عَنْ آخِرِهِ وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ: «إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ بِعَبْدِهِ خَيْرًا قَيَّضَ لَهُ مَلَكًا قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ فَسَدَّدَهُ وَيَسَّرَهُ حَتَّى يَمُوتَ، وَهُوَ خَيْرُ مَا كَانَ، فَإِذَا حَضَرَ فَرَأَى ثَوَابَهُ مِنَ الْجَنَّةِ فَجَعَلَ يَتَهَوَّعُ نَفْسَهُ، وَدَّ أَنَّهَا خَرَجَتْ، فَعِنْدَ ذَلِكَ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ فَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَإِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ سُوءًا قَيَّضَ لَهُ شَيْطَانًا قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ فَصَدَّهُ وَأَضَلَّهُ وَفَتَنَهُ حَتَّى يَمُوتَ شَرَّ مَا كَانَ، وَيَقُولُ النَّاسُ مَاتَ فُلَانٌ وَهُوَ شَرُّ مَا كَانَ، فَإِذَا حَضَرَ فَرَأَى ثَوَابَهُ مِنَ النَّارِ جَعَلَ يَتَبَلَّعُ نَفْسَهُ وَدَّ أَنَّهُ لَا يَخْرُجُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ»
6749 - ابو عطیہ وادعی بیان کرتے ہیں: میں اور مسروق سیدہ عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے عرض کی : حضرت عبداللہ بن مسعود کا یہ کہنا ہے کہ جو شخص اللہ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اُسکی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ کی بارگاہ میں حاضری کو نا پسند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اُس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری سے پہلے تو موت آنی ہے ۔ تو سیدہ عائشہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمٰن پر رحم کرے ! اُنہوں نے تمہیں ایک حدیث بیان کی ہے تمہیں اُس کے بارے میں ابن کسی اور سے سوال کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی میں تمہیں اس بارے میں بتا دیتی ہوں ! جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اُس کے مرنے سے ایک سال پہلے اُس کے لیے فرشتہ مقرر کر دیتا ہے جو اُس کے مرنے تک اُسے سیدھا راستہ بجھا دیتا ہے اور اُسے آسانی فراہم کرتا ہے پھر وہ بندہ بہترین حالت میں رہتا ہے یہاں تک کہ جب اُس کا آخری وقت قرب آتا ہے تو وہ جنت میں ملنے والا اجرو ثواب دیکھتا ہے تو اُس کا نفس اُس کے مشتاق ہوتا ہے اور اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ دنیا سے رخصت کر جائے ایسی صورت حال میں وہ اللہ تعالیٰ کی بارگامیں حاضری کو پسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اُس کی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی برے بندے کے بارے میں ارادہ رکرتا ہے تو اُس کے مرنے سے پہلے ایک شیطان اُس پر مسلط کر دیتا ہے جو اُسے روکتا ہے اور گمراہ کرتا ہے اُسے آزمائش کا شکار کرتا ہے یہاں تک کہ وہ شخص بدترین حالت میں انتقال کرتا ہے لوگ یہ کہتے ہیں: فلاں شخص کا انتقال ہو گیا حالانکہ وہ بدترین حالت میں ہو تا ہے جب اُس کا آخری وقت قریب آتا ہے تو اُسے جہنم میں ملنے والا بدلہ دکھایا جاتا ہے جس کے بدلے میں اُس کا نفس گھبرا جاتا ہے اور وہ اس بات کا خواہشمند ہوتا ہے کہ اُس کی جان نہ نکلے ایسی صورت حال میں وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اُسکی حاضری کو ناپسند کرتا ہے ۔
وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْنَا: ← دَخَلْتُ ← أَبِي عَطِيَّةَ الْوَادِعِيِّ: ← الْاَعْمَشِ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › The door of the grave trial · Hadith 6749
