مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابٌ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ · حديث 6716
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي قُبُورَ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ، فَيَقُولُ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ». قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ
6716 - محمد بن ابراہیم تیمی بیان کرتے ہیں: ایک سال بعد بعض شہدا ء کی قبروں پر تشریف لے جاتے تھے اور یہ پڑھتے تھے : تم پر سلام ہو اس وجہ سے تم نے صبر کیا ہے اور آخرت کا ٹھکانہ بڑا بہتر ین ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت ابو بکر حضرت عمر اور حضرت عثمان غنی بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ ← «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ». ← كَانَ النَّبِيُّ يَأْتِي قُبُورَ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 6716
