مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ · حديث 2566
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بنِ ضَمْرَةَ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، وَعَبْدُكَ بَيْنَ يَدَيْكَ، وَعَبْدُكَ بَيْنَ يَدَيْكَ، وَمِنْكَ وَإِلَيْكَ، وَلَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، سُبْحَانَكَ رَبَّ الْبَيْتِ»
2566 – عاصم بن ضمرہ بیا ن کرتے ہیں: حضرت علی جب نماز کا آغاز کرتے تھے تو یہ پڑھتے تھے : اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے اُس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں تو ہر ایک عیب سے پاک ہے بے شک میں نے اپنے اوپر ظلم کیا تو میری مغفرت کر دے کیونکہ گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں سعاد تمندی تجھ سے حاصل ہو سکتی ہے بھلائی تیرے دست قدرت میں ہے برائی تیری طرف نہیں جاسکتی ہدایت یافت وہ ہے تو جسے ہدات کرے میں تیرا بندہ ہوں جو تیرے سامنے مووجود ہے میں تیرا بندہ ہوں اور تیری طرف تیرے مقابلے میں صرف تو ہی پناہ گاہ اور جائے نجات ہے تو برکت والا ہے اور بلند و برتر ہے تو ہر عیب سے پاک ہے اے بیت اللہ کے پرورردگار !
كَانَ عَلِيٌّ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← الحسن بن عمارة ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter opening prayer · Hadith 2566
