مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ الصَّبْرِ وَالْبُكَاءِ وَالنِّيَاحَةِ · حديث 6703
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " إِذَا وُضِعَ الْمَيِّتُ فِي قَبْرِهِ كَانَتِ الصَّلَاةُ عِنْدَ رَأْسِهِ، وَالزَّكَاةُ عَنْ يَمِينِهِ، وَالصَّوْمُ عَنْ يَسَارِهِ، وَالصَّدَقَةُ وَالصِّلَةُ وَالْمَعْرُوفُ وَالْإِحْسَانُ إِلَى النَّاسِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ، فَيُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ فَتَقُولُ الصَّلَاةُ: مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ، ثُمَّ يُؤْتَى مِنْ قِبَلِ يَمِينِهِ فَتَقُولُ الزَّكَاةُ: مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ، ثُمَّ يُؤْتَى مِنْ قِبَلِ يَسَارِهِ فَيَقُولُ الصَّوْمُ: مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ، ثُمَّ يُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ فَيَقُولُ الصَّدَقَةُ: مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ قَالَ: فَيُجْلَسُ " قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَإِنَّهُ يَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ قَالَ: فَيُجْلَسُ وَيُمَثَّلُ لَهُ الشَّمْسُ قَدْ دَنَتْ لِلْغُرُوبِ، فَيَقُولُ: دَعُونِي أُصَلِّي، فَيُقَالُ لَهُ: إِنَّكَ سَتَفْعَلُ، فَيُقَالُ لَهُ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ يَقُولُ: أَمُحَمَّدٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ: قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّهُ جَاءَ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: عَلَيْهَا حَيِيتَ وَعَلَيْهَا مُتَّ وَعَلَيْهَا تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ [ص:568] قَالَ: فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [إبراهيم: 27] قَالَ: فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنَ النَّارِ فَيَنْظُرُ إِلَى مَسَاكِنِهِ فِيهَا، فَيُقَالُ لَهُ: لَوْ كُنْتَ عَصَيْتَ كَانَتْ هَذِهِ مَسَاكِنَكَ، فَيَزْدَادُ غِبْطَةً وَسُرُورًا، وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ قَالَ: سَبْعِينَ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَنْطَبٍ: ثُمَّ يُقَالُ: نَمْ نَوْمَةَ الْعَرُوسِ لَا يُوقِظُهُ إِلَّا أَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَيْهِ ـ رَجَعَ الْحَدِيثُ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ـ قَالَ: " تُجْعَلُ رُوحُهُ فِي النَّسِيمِ الطِّيبِ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ تَعْلُقُ بَيْنَ شَجَرٍ مِنْ شَجَرِ الْجَنَّةِ، أَوْ تَعْلُقُ بِشَجَرِ الْجَنَّةِ قَالَ: وَتَعُودُ الْأَجْسَادُ لِلَّذِي خُلِقَتْ لَهُ قَالَ: وَإِنَّ الْكَافِرَ يُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ فَلَا يُوجَدُ لَهُ شَيْءٌ، فَيُجْلَسُ ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ، مَرَّتَيْنِ؟ لَا يَذْكُرُهُ حَتَّى يُلَقَّنَهُ، فَيَقُولُ: مُحَمَّدًا قَالَ: كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ، فَيُقَالُ لَهُ: صَدَقْتَ، عَلَيْهَا حَيِيتَ وَعَلَيْهَا مُتَّ وَعَلَيْهَا تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يُفْتَحُ بَابٌ مِنَ الْجَنَّةِ فَيَرَى مَسَاكِنَهَا فَيُقَالُ لَهُ: لَوْ كُنْتَ فَعَلْتَ وَأَطَعْتَ اللَّهَ كَانَتْ هَذِهِ مَسَاكِنَكَ، فَيَزْدَادُ حَسْرَةً وَثُبُورًا قَالَ: ثُمَّ يُغْلَقُ عَلَيْهِ وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنَ النَّارِ فَيَرَى مَسَاكِنَهُ فِيهَا وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ مِنَ الْعَذَابِ وَيَزْدَادُ حَسْرَةً وَثُبُورًا، وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَلْتَقِيَ أَضْلَاعُهُ "، فَذَلِكَ قَوْلُ [ص:569] اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {مَعِيشَةً ضَنْكًا} [طه: 124] قَالَ: «وَتُجْعَلُ رُوحُهُ فِي سِجِّينٍ»
6703 – ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن حضرت ابو ہریرہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو نماز اس کے سرہانے آجاتی ہے زکوٰۃ اُس کے دائیں طرف آجاتی ہے روزہ بائیں طرف آجاتا ہے صدق صلہ رحمی بھلائی اور احسان جو اُس نے لوگوں کے ساتھ کیا ہوا تھا وہ اُسکے پاؤں کی طرف آجاتے ہیں جب کوئی فرشتہ اُس کے سر کی طرف سے آتا ہے تو نماز یہ کہتی ہے میری طرف سے تمہیں جانے کی جگہ نہیں ملے گی پھر اُس میت کے دائیں طرف سے آیا جاتا ہے تو زکوٰۃ یہ کہتی ہے میری طرف سے تمہیں راستہ نہیں ملے گا پھر اُس کے بائیں طر ف سے آجایا جاتا ہے تو روزہ یہ کہتا ہے میر ی طرف سے راستہ نہیں ہے۔راوی کہتے ہیں: پھر اُس میت کو بیٹھا لیا جاتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں: وہ لوگوں کے جوتوں کی آہٹ بھی سنتا ہے پھر اُسے بیٹھایا جاتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سورج غروب ہونے کے قریب ہے تو وہ یہ کہتا ہے : تم لوگ مجھے موقع دو تاکہ میں نماز ادا کروں ۔ تو اس سے کہا جاتا ہے : تم ایسا کر چکے ہو ۔ پھر اُس سے دریافت کیا جاتا ہے : ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ وہ کہتا ہے : کیا یہ حضرت محمد ﷺ ہیں فرشتے کہتے ہیں: جی ہاں! وہ کہتا ہے : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق لے کر آئے تھے تو اُس میت سے یہ کہا جاتا ہے : تم اسی عقیدہ پر زندہ رہے اور اسی پر تمہارا انتقال ہو ا اور اگر اللہ نے چاہا تو اسی پر تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا ۔ راوی کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں مضبوط قول پر ثابت قدم رکھتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر اُس شخص کے لیے جہنم کا دروازہ کھولا جاتا ہے تو وہ جہنم میں ٹھکانے کو دیکھتا ہے ا س سے کہا جاتا ہے : اگر تم نے نافرمانی کی ہوتی تو تمہارا ٹھکانہ یہ ہوتا اس کے نتیجہ میں اُس شخص کے رشک اور خوشی میں اضافہ ہو جاتا ہے پھر اس شخص کے لیے اُس کی قبر کو ستر گز تک کشادہ کر دیا جاتا ہے ۔ یہاں عبدالرحمٰن بن یحییٰ نے یہ الفاظ نقل کیے پیں: پھر یہ کہا جاتا ہے: تم دلہن کی طرح سو جاؤ جسے وہی شخص بیدار کرتا ہے جو اُس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے ۔ اُس کے بعد راوی نے حضرت ابو ہریرہ کی حدیث نقل کی جس میں یہ الفاظ ہیں : اُس شخص کی روح پاکیزہ برتن میں رکھ کے پرندوں کے پیٹ میں رکھا جاتا ہے جو جنت کے درختوں سے لٹکے ہوتے ہیں ۔اور جسم اُس چیز کی طرف لوٹ جاتے ہیں جس کے لیے وہ پیدا ہوئے تھے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › Door of patience, weeping and mourning · Hadith 6703
