مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّكْبِيرِ · حديث 2504
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ: «أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُكَبِّرُ فِي الصَّلَاةِ حِينَ يَسْتَفْتِحُ، وَحِينَ يَرْكَعُ، وَحِينَ يَتَصَوَّبُ لِيَسْجُدَ، قَبْلَ أَنْ يَضَعَ رَأْسَهُ، وَحِينَ يَرْفَعُ مِنَ السَّجْدَةِ، ثُمَّ حِينَ يَضَعُ يَعُودُ لِيَسْجُدَ قَبْلَ أَنْ يَضَعَ وَجْهَهُ، وَحِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ، ثُمَّ حِينَ يَسْتَوِي مِنَ الْمَثْنَى قَائِمًا» قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَكَانَ طَاوُسٌ يَقُولُ: «كَذَلِكَ كَانَتِ الصَّلَاةُ»
نافع بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر نماز کے آغاز میں تکبیر کہتے تھے جب رکوع میں جاتے تھے اور سجدہ میں جانے کے لیے سر کو جھکاتے تھے تو سر کو زمین پر رکھنے سے پہلے اور جب سر سجدہ سے اُٹھاتے تھے اور جب دوبارہ سجدہ میں جانے لگتے تھے تو اپنے منہ کو زمین پر رکھنے سے پہلے تجبیر کہتے تھے پھر جب سجدہ سے سر کو اُٹھاتے تھے اُس وقت اور جب دورکعات ادا کرنے کے بعد کھرے ہوتے تھے اُس وقت تکبیر کہتے تھے ۔ابن جریح بیان کرتے ہیں: طاؤس فرماتے ہیں: نماز اسی طرح ہوتی ہے ۔
نَافِعٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 2504
