مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ الْجَدَثِ وَالْبُنْيَانِ · حديث 6496
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ النُّعْمَانِ قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا، سُئِلَ عَنْ رَكِيَّةٍ بَيْنَ الْقُبُورِ فَكَرِهَ أَنْ يُشْرَبَ مِنْهَا وَلَا يُتَوَضَّأَ، قُلْتُ: مَا الرَّكِيَّةُ؟ قَالَ: يَقُولُ بَعْضُهُمْ: هُوَ الْبِئْرُ، وَبَعْضُهُمْ يَقُولُ: هُوَ الْغَدِيرُ يَكُونُ بَيْنَ الْقُبُورِ، قُلْتُ: فَأَيُّهُمَا تَقُولُهُ؟ قَالَ: نَقُولُ: هُوَ الْبِئْرُ، قُلْتُ: أَفَتَكْرَهُ أَنْ تَتَوَضَّأَ مِنْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَلِمَ؟ قَالَ: «لِأَنَّ الْقُبُورَ إِذَا كَثُرَ الْغَيْثُ غَرِقَتْ، فَلِذَلِكَ أَكْرَهُ الْوُضُوءَ مِنْهَا»
6495 - طاؤس کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُن سے قبرستان کے درمیان موجود کنویں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اُنہوں نے اُس میں سے پانی پینے یا اُس میں وضو کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے ۔ میں نے دریافت کیا: لفظ رکیہ سے کیا مراد ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: اس سے مراد کنواں ہے جبکہ بعض حضرات نے یہ کہا ہے: اس سے مراد وہ کنواں ہے جو قبرستان کے درمیان میں موجود ہوتا ہے ۔ میں نے دریافت کیا: ان دونوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: ہم یہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد کنواں ہے۔ میں نے دریافت کیا: کیا آپ اس کو مکروہ سمجھتے ہیں کہ اس سے وضو کیا جائے ؟ اُنہو ں نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے دریافت کیا: وہ کیو ں؟ اُنہوں نے جواب دیا: اس لیے کہ جب بارش زیادہ ہوتی تو قبریں ذوب جاتی ہی اسی لیے میں اس سے وضو کرنے کو مکروہ قرار دیتا ہوں۔
«لِأَنَّ الْقُبُورَ إِذَا كَثُرَ الْغَيْثُ غَرِقَتْ، فَلِذَلِكَ أَكْرَهُ الْوُضُوءَ مِنْهَا» ← نَعَمْ، قُلْتُ: فَلِمَ؟ ← نَقُولُ: هُوَ الْبِئْرُ، قُلْتُ: أَفَتَكْرَهُ أَنْ تَتَوَضَّأَ مِنْهَا؟ ← هُوَ الْغَدِيرُ يَكُونُ بَيْنَ الْقُبُورِ، قُلْتُ: فَأَيُّهُمَا تَقُولُهُ؟ ← بَعْضُهُمْ: هُوَ الْبِئْرُ، وَبَعْضُهُمْ ← رَكِيَّةٍ بَيْنَ الْقُبُورِ فَكَرِهَ أَنْ يُشْرَبَ مِنْهَا وَلَا يُتَوَضَّأَ، قُلْتُ: مَا الرَّكِيَّةُ؟ ← طاوسا سئل ← النُّعْمَانِ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 6496
