مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ كَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ · حديث 6340
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ رَزِينٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: " رَأَيْتُهُ جَاءَ إِلَى جَنَائِزِ رِجَالٍ وَنِسَاءٍ، فَقَالَ: أَيْنَ الصَّعَافِقَةُ، أَوْ مَا تَقُولُ الصَّعَافِقَةُ؟ يَعْنِي الَّذِينَ يَطْعَنُونَ قَالَ: ثُمَّ جَعَلَ الرِّجَالَ مِمَّا يَلُونَ الْإِمَامَ وَالنِّسَاءَ أَمَامَ ذَلِكَ بَعْضُهُمْ عَلَى إِثْرِ بَعْضٍ "، ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ فَعَلَ ذَلِكَ بِأُمِّ كُلْثُومٍ وَزَيْدٍ، وَثَمَّ رِجَالٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ قَالَ: أُرَاهُ ذَكَرَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا
6340 – امام شعبی کے بارے میں یہ بات منقول ہے : راوی بیا ن کرتے ہیں: میں نے انہیں دیکھا کہ وہ کچھ مردوں اور خواتین کے جنازہ ادا کرنے کے لیے آئے تو اُنہوں نے دریافت کیا: طعن کرنے والے لوگ کہاں ہیں؟ راو ی کہتے ہیں: پھر اُنہوں نے مردوں کے جنازے امام کے قریب رکھوائے اور خواتین کے جنازے اُس سے آگے رکھے وہ سب ایک دوسرے کے آگے پیچھے رکھے گئے ۔ پھر اُنہوں نے یہ بات ذکر کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے سیدہ اُم کلثوم حضرت زید کے جنازوں کےساتھ اسی طرح کیا تھا وہاں بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والے کچھ فراد بھی موجود تھے ۔ راوی کہتے ہیں۔ میرا خیال ہے : وہ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین تھے۔
الشَّعْبِيِّ، ← رَزِينٌ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 6340
