مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الْمَوَاقِيتِ · حديث 2040
أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنِ ابْنِ لَبِيبَةَ قَالَ: جِئْتُ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَالَ: قُلْتُ: صِفْهُ لِي قَالَ: «كَانَ رَجُلًا آدَمَ ذَا ضَفِيرَتَيْنِ، بَعِيدٌ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، أَقْنَعُ الثَّنْتَيْنِ»، قُلْتُ [ص:538]: أَخْبِرْنِي، عَنْ أَمْرِ الْأُمُورِ نَبَعَ عَنْ صَلَاتِنَا الَّذِي لَا بُدَّ لَنَا مِنْهَا قَالَ: «فَمَنْ أَنْتَ؟» قَالَ: مِنْ قَوْمٍ سُرُّوا بِطَاعَتِهِمْ وَاشَّمَلُوا بِهَا قَالَ: «مِمَّنْ أَنْتَ؟»: قُلْتُ: مِنْ ثَقِيفٍ قَالَ: «فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ؟» قَالَ: قُلْتُ: فَرَأَيْتُ كَانَ عَمْرٌو، وَلَكِنِّي جِئْتُكَ أَسْألُكَ قَالَ: «أَتَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَقَرَأْتُ لَهُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فَقَالَ: " هَذِهِ السَّبْعُ الْمَثَانِي الَّتِي يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: {وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ} [الحجر: 87] " قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي: «أَتَقْرَأُ سُورَةَ الْمَائِدَةَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: «فَاقْرَأْ عَلَيَّ آيَةَ الْوُضُوءِ»، فَقَرَأْتُهَا فَقَالَ: «مَا أَرَاكَ إِلَّا عَرَفْتَ وُضُوءَ الصَّلَاةِ» أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ يَقُولُ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ} [الإسراء: 78]؟ أَتَدْرِي مَا دُلُوكُ الشَّمْسِ؟ " قُلْتُ: لَا قَالَ: «إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، عَنْ كَبِدِ السَّمَاءِ - أَوْ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ - بَعْدَ نِصْفِ النَّهَارِ» قَالَ: نَعَمْ فَصَلِّ الظُّهْرَ حِينَئِذٍ، وَصَلِّ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ تَجِدُ لَهَا مَسًّا " قَالَ: «أَتَدْرِي [ص:539] مَا غَسَقُ اللَّيْلِ؟» قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، غُرُوبُ الشَّمْسِ قَالَ: «نَعَمْ، فَاحْدُرْهَا فِي أَثَرِهَا، ثُمَّ احْدُرْهَا فِي أَثَرِهَا، وَصَلِّ الْعِشَاءَ إِذَا ذَهَبَ الشَّفَقُ، وَادْلَأَمَّ اللَّيْلُ مِنْ هَهُنَا - وَأَشَارَ إِلَى الْمَشْرِقِ -، فِيمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ ثُلُثِ اللَّيْلِ، وَمَا عَجَّلْتُ بَعْدَ ذَهَابِ بَيَاضِ الْأُفُقِ، فَهُوَ أَفْضَلُ، وَصَلِّ الْفَجْرَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، أَتَعْرِفُ الْفَجْرَ؟» قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: «لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَعْرِفُهُ» قَالَ: قُلْتُ: إِذَا اصْطَفَقَ بِالْبَيَاضِ قَالَ: «نَعَمْ، فَصَلِّهَا حِينَئِذٍ إِلَى السَّدَفِ، ثُمَّ إِلَى السَّدَفِ» وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: «وَإيَّاكَ وَالْحَبْوَةَ وَتَحَفَّظْ مِنَ السَّهْوِ حَتَّى تَفْرُغَ» قَالَ: قُلْتُ: أَخْبِرْنِي، عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى قَالَ: " أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ يَقُولُ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ} [الإسراء: 78] الْآيَةَ، وَمِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَكُمْ " فَذَكَرَ الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا، ثُمَّ قَالَ: " {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} [البقرة: 238] أَلَا وَهِيَ الْعَصْرُ، أَلَا وَهِيَ الْعَصْرُ "
ابن لبیبہ بیان کرتے ہیں: میں حضرت ابو ہریرہ کے پاس آیا وہ اُس وقت مسجد حرام میں تشریف فرما تھے میں نے کہا : آپمیرے سامنےاُن کا حلیہ بیان کریں! اُنہوں نے کہا: وہ ایک ایسے شخص تھے جو گندمی رنگ کے تھے اور اُن کی بالوں کی لٹیں تھیں اُن کے کندھےچوڑے تھے اُن کے سامنے کے دانت تھے ۔ میں نے اُن سے کہا: آپ ہمیں سب سے اہم معاملہ یعنی نماز کے بارے میں بتائے جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے ۔ اُنہوں نے کہا: تم کون ہو ؟ میں نے کہا : میرا تعلق ایک ایسی قوم سے ہے جو بزرگوں کی فرمانبداری سے خوش ہوتی ہے اور یہ ان کا معمول ہے ۔ اُنہوں نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کون سے قبیلہ سے ہے ؟ میں نے دریافت کیا : ثقیف قبیلہ سے اُنہوں نے دریافت کیا: عمرو بن اوس کے پاس تم کیوں نہیں گئے ؟ میں نے کہا: میں نے عمرو کو دیکھا ہے لیکن میں آپ کے پاس سوال کرنے کے لیے آیا ہوں اُنہوں نے دریافت کیا: کیا تم نے قرآن کا کچھ حصہ سیکھا ہوا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں! راوی کہتے ہیں: پھر میں نے اُنہیں سورۃ فاتحہ پڑھ کر سنائی تو اُنہوں نے یہ کہا : یہ دو دفعہ پڑھی جانے والی وہ آیات ہیں جن کے بارے مین اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : ہم نے تمہیں دودفعہ پڑھی جانے والی سات آیات اور قرآت عطا ء کیا ہے ۔ پھر اُنہوں نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم سورہ مائدہ کی تلاوت کر سکتے ہو ؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! اُنہوں نے کہا:تم میرے سامنے وضو سے متعلق آیت تلاوت کرو! وہ میں نے اُن کے سامنے تلاوت کی تو اُنہوں نے فرمایا: تمہارے بارے میں میری یہ رائے ہے تم نماز کے وضو کے بارے میں جانتے ہو؟ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : سورج کے دلوک کے وقت نماز قائم کرو ۔ تم جانتے ہو کے سورج کے دلوک سے کیا مراد ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں! اُنہوں نے فرمایا: جب سورج آسمان کے جگر سے آسمان کے پیٹ سے نصف النہار کے بعد ڈھل جائے اُنہوں نے کہا: ٹھیک ہے ! تم اس وقت ظہر کی نماز ادا کرو اور عصر کی نماز اُس وقت ادا کرو جب سورج روشن اور چمکدار ہو جب تمہیں اُس کی تپش محسوس ہو ۔ پھر اُنہوں نے دریافت کیا: کیا تم جانتے ہو کہ غسق اللیل سے کیا مراد ہے ؟ میں نے کہا: جی ہاں! سورج غروب ہونا۔ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! تو تم اُس کے فورا بعد نماز ادا کرو اور عشا ء کی نماز اُس وقت ادا کرو جب شفق رخصت ہو جائے اور اس طر ف سے رات آجائے اُنہوں نے مشرق کی طرف اشارہ کر کے کہا تم اُس وقت اور ایک تہائی رات کے درمیان مین اسے ادا کر سکتے ہو اور اگر تم اُفق کی سفیدی رخصت ہو جانے کے بعد اسے ادا کرو تو یہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے اور تم فجر کی نماز اُس وقت ادا کرو جب صبح صادق ہو جائے کیا تم صبح صادق کو جانتے ہو ؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں ! اُنہوں نے کہا : سب لوگ اس کو نہیں جانتے میں نے کہا : جب سفیدی پھیل جائے اُنہوں نے کہا: جی ہاں! تم یہ نماز اُس وقت سے لے کر روشنی تک ادا کر سکتے ہو ۔ اُنہوں نے اپنی روایت میں یہ الفاظ بھی بیان کیے کہ تم احتبا کے طور پر بیٹھنے سے بچنا اور نماز سے فارغ ہو نے تک سہو سے بچ کے رہنا ۔ راوی بیان کرتے ہیں:میں نے دریافت کیا : آپ مجھے درمیانی نماز کے بارے میں بتائے ! تو اُنہوں نے فرمایا: کیا تم نے اللہ تعالیٰ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : سورج ڈھلنے سے لے کر رات آنے تک نماز قائم کرو اور فجر کی نماز کی تلاوت کرو۔ اور عشا ء کی نماز سے بعد سے لے کر تمہارے لیے پردے کے اوقات ہیں۔ اُس کے بعد اُنہوں نے تمام نمازوں کے اوقات کا ذکر کیا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی: تمام نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیانی نماز کی بھی ۔ پھر اُنہوں نے فرمایا: خبردار! اس سے مراد عصر کی نماز ہے خبردار! اس سے مراد عصر کی نماز ہے ۔
ابْنِ لَبِيبَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← مَعْمَرٌ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The timetable door · Hadith 2040
