مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ فِي جَمَاعَةٍ · حديث 2011
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنِ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَوَجَدَ عِنْدِي رَجُلَيْنِ نَائِمَيْنِ، فَقَالَ: «وَمَا شَأْنُ هَذَيْنِ مَا شَهِدَا مَعِي الصَّلَاةَ؟» قُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ صَلَّيَا مَعَ النَّاسِ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي رَمَضَانَ فَلَمْ يَزَالَا يُصَلِّيَانِ حَتَّى أَصْبَحَا، وَصَلَّيَا الصُّبْحَ، وَنَامَا، فَقَالَ عُمَرُ: «لَأَنْ أُصَلِّيَ الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّيَ لَيْلَةً حَتَّى أُصْبِحَ»
شفا ء بنت عبداللہ بیان کرتی ہیں: حضرت عمر میرے پاس تشریف لائے تو اُنہوں نے میرے پاس دو آدمیوں کو سوتے ہوئے دیکھا اُنہوں نے دریافت کیا : ان دونوں کا کیا معاملہ ہے یہ میرے ساتھ نماز باجماعت میں شریک نہیں ہوئے؟ میں نے کہا : اے امیرالمومنین ! ان دونوں نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا کی تھی یہ رمضان کے مہینے کی بات ہے وہ مسلسل نماز ادا کرتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوئی تو یہ دونوں صبح کی نماز ادا کر کے گھر میں ہی سو گئے ۔ تو حضرت عمر نے فرمایا: میں صبح کی نماز باجماعت ادا کر لوں یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے میں صبح تک رات تک نوافل ادا کرتا رہوں۔
دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَوَجَدَ عِنْدِي رَجُلَيْنِ نَائِمَيْنِ، ← الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 2011
