مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ شُهُودِ الْجَمَاعَةِ · حديث 1991
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ، وَعَلِيٌّ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَا أَتَحَرَّجُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَ هَؤُلَاءِ، وَأَنْتَ الْإِمَامُ، قَالَ عُثْمَانُ: «إِنَّ الصَّلَاةَ أَحْسَنُ مَا عَمِلَ النَّاسُ فَإِذَا رَأَيْتَ النَّاسَ يُحْسِنُونَ فَأَحْسِنْ مَعَهُمْ، وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ يُسِيئُونَ فَاجْتَنِبْ إِسَاءَتَهُمْ»
1991 – عبید اللہ بن عدی بن خیار بیان کرتے ہیں: وہ حضرت عثمان غنی کی خدمت میں حاضر ہوئے جنہیں اُس وقت محصور کیا جا چکا تھا حضرت علی لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے ۔ عبیداللہ بن عدی نے کہا : اے امیر المومنین! مجھے اس بات میں حرج محسوس ہوتا ہے کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نماز ادا کروں جبکہ امام آپ ہیں۔ تو حضرت عثمان غنی نے فرمایا: لوگ جو عمل کرتے ہیں اُن میں سب سے زیادہ عمدہ عمل نماز ہے جب تم لوگوں کو دیکھو کہ وہ اچھائی کر رہے ہیں تو تم اُن کے ساتھ اچھائی کرو اور جب اُنہیں دیکھو کہ برائی کر رہے ہیں تو تم اُن کی برائی سے اجتناب کرو ۔
عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The section of the Witnesses of the Congregation · Hadith 1991
