مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ بَابُ: {مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ} [النساء: 22] · حديث 10808
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «حَرُمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ، وَمِنَ الصِّهْرِ سَبْعٌ»، ثُمَّ قَرَأَ {وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ} [النساء: 23] حَتَّى بَلَغَ {وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ} [النساء: 23]، وَقَرَأَ {وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ} [النساء: 22]، فَقَالَ: «هَذَا الصِّهْرُ»
10808 –عمیر جو حضرت عبداللہ بن عباس کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں: نصب کے حوالے سے سات رشتے حرام ہوتے ہیں اور سسرالی حوالے سے سات رشتے حرام ہوتےہیں پھر اُنہوں نے یہ آیت تلاوت کی : اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیںدودھ پلایا ہے ۔ اُنہوں نے اس ایت کو یہاں تک تلاوت کیا اور یہ کہ تم دونوں بہنوں کو جمع کر لو ۔ پھرا ُنہون نے یہ آیت تلاوت کی : اور تمہارا اُن کے ساتھ نکاح کرنا جن عورتوں کے ساتھ تمہارے باپ دادا نے نکاح کیا ہے ۔ تو حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا:یہ سسرالی تعلق ہو گا ۔
عُمَيْرٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← الْاَعْمَشِ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Marriage Book › Bab: {your fathers didn’t have sex with you) [An-Nisa: 22] · Hadith 10808
