مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ بَابُ الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ فَتُرْسِلُ إِلَيْهِ بِغَيْرِهَا · حديث 10712
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَضَى فِي رَجُلٍ خَطَبَ امْرَأَةً إِلَى أَبِيهَا، وَلَهَا أُمٌّ عَرَبِيَّةٌ فَأَمْلَكَهُ، وَلَهَا أُخْتٌ مِنْ أَبِيهَا مِنْ أَعْجَمِيَّةٍ، فَأُدْخِلَتْ عَلَيْهِ ابْنَةُ الْأَعْجَمِيَّةِ فَجَامَعَهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ اسْتَنْكَرَهَا، فَقَضَى: «أَنَّ الصَّدَاقَ لِلَّتِي دَخَلَ بِهَا»، وَجَعَلَ لَهُ ابْنَةَ الْعَرَبِيَّةِ، وَجَعَلَ عَلَى أَبِيهَا صَدَاقَهَا، وَقَالَ: «لَا يَدْخُلُ بِهَا حَتَّى يَخْلُوَ أَجَلُ أُخْتِهَا». عَبْدُ الرَّزَّاقِ، [ص:252]
عطا ء خراسانی حضرت عبداللہ بن عباس کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ اُنہوں نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے ایک عورت کے باپ کو شادی کا پیغام دیا اُس عورت کی ماں ایک عرب عورت تھی تو لڑکی کے باپ نے یہ رشتہ طے کر دیا اُس لڑکی کی ایک سوتیلی بہن تھی جس کی ماں عجمی تھی تو عجمی عورت کی بیٹی کی رخصتی کروای گئی مرد نے اُس عربی عورت کی بیٹی کے ساتھ صحبت کر لی جب اگلے دن صبح اُسے محسوس ہوا تو حضرت عبداللہ بن عباس نے یہ فتویٰ دیا کہ مرد نے جس عورت کے ساتھ صحبت کی ہے اُس عورت کو مہر ملے گا اور مرد کے ہاں عربی عورت کی بیتی کی رخصتی کروائی جائے اور اُس کا مہر لڑکی کے باپ کے ذمہ ہو گا ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَضَى فِي رَجُلٍ خَطَبَ امْرَأَةً إِلَى أَبِيهَا، ← عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Marriage Book › The man’s door marries a woman, and she sends to him with another · Hadith 10712
