مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ بَابٌ: فِي الرَّجُلَيْنِ يَدَّعِيَانِ السِّلْعَةَ يُقِيمُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا الْبَيِّنَةَ · حديث 15214
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، أَنَّ نَاسًا اخْتَصَمُوا فِي مَاءٍ يُقَالُ لَهُ: الْغُبَرُ، فَجَاءَ هَؤُلَاءِ بِشُهَدَاءَ وَجَاءَ هَؤُلَاءِ بِشُهَدَاءَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: «الِاسْمُ مَا هُوَ؟» قَالُوا: الْغُبَرُ، فَقَضَى بِهِ لِغُبَرَ " وَغُبَرُ: بَطْنٌ مِنْ بَنِي يَشْكُرَ "
15213 - ہشام بن عروہ نے عروہ بن زبیر کا یہ بیان نقل کیا ہے : بنو سلیم سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ معدنیات کے بارے میں مقدمہ لے کر مروان بن حکم کے پاس آئے جو ان دونوں مدینہ منورہ کا گورنر تھا مروان نے حضرت عبداللہ بن زبیر کو ہدایت کیتو انہوں نے ان لوگوں کے درمیان قرعہ اندازی کی : کہ کون حلف اٹھائےگا؟ تو قرعہ ایک فریق لا نکل آیا حضرت عبداللہ بن زبیر نے ان سے حلف لیا تو انہوں نے حلف اٹھا لیا تو انیوں نے ان لوگوں کے حق میں معدنیات کا فیصلہ دیا اس کی وجہ یہ تھی کہ دونوں طرف گواہوں کی تعداد برابر ےتھی اور یہ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ ان میں سے کس کی بنیاد پر فہصلہ دیا جائے ۔
رَجُلٌ: ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Sales › Chapter: In the two men claiming the commodity, each of them makes the evidence · Hadith 15214
