مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ بَابٌ: الْجَائِحَةُ · حديث 15154
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ: " كَانَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَقِيمُونَ فِي الْجَائِحَةِ، يَقُولُونَ: مَا كَانَ دُونَ الثُّلُثِ فَهُوَ عَلَى الْمُشْتَرِي إِلَى الثُّلُثِ، فَإِذَا كَانَ فَوْقَ الثُّلُثِ، فَهِيَ جَائِحَةٌ، وَمَا رَأَيْتُهُمْ يَجْعَلُونَ الْجَائِحَةَ إِلَّا فِي الثِّمَارِ، وَذَلِكَ أَنِّي ذَكَرْتُ لَهُمُ الْبَزَّ يَحْتَرِقُ، وَالرَّقِيقَ يَمُوتُونَ " قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ الزُّهْرِيَّ قَالَ: قُلْتُ لَهُ: مَا الْجَائِحَةُ؟ فَقَالَ: «النِّصْفُ»
معمر بیان کرتے ہیں: اہل مدینہ آفت کے حصے کر لیا کرتے تھے وہ یہ کہتے تھے : اگر نقصان ایک تہائی سے کم ہوا ہو تو ایک تہائی کی حد تک یہ نقصان خریدار کے ذمہ ہو گا اور جب ایک تہائی سے زیادہ ہو تو یہ آفت کا شمار ہو گا البتہ میں نے اہل مدینہ کو دیکھا ہے کہ وہ حضرات آفت اس چیز کو مانتے تھے جو پھلوں کے بارے میں ہو میں نے ایک مرتبہ اُن کے سامھے یہ بات ذکر کی : اگرت کپڑا جل جات اہے یا غلان مر جاتا ہے ؟
مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Sales › Chapter: Pandemic · Hadith 15154
