مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ بَابٌ: فَسَادُ الْبَيْعِ إِذَا لَمْ يَكُنِ النَّقْدُ جَيِّدًا، وَهَلْ يَشْتَرِي بِنَقْدٍ غَيْرِ جَيِّدٍ؟ · حديث 14986
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: رَأَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ مُحْرِزٍ أَتَى السُّوقَ وَمَعَهُ دِرْهَمٌ زَائِفٌ، فَقَالَ: «مَنْ يَبِيعُنِي عَيْنًا طَيِّبًا بِدِرْهَمٍ خَبِيثٍ، فَاشْتَرَى وَلَمْ يَشْهَدْ» وَذَكَرَ الثَّوْرِيُّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: «لَا بَأْسَ بِهِ إِذَا بَيَّنَهُ»
14986 - زبیع بن انس بیان کرتے ہیں: میں نے صفوان بن محرز کو دیکھا وہ بازار آئے ان کے پاس ایک کھوٹا درہم تھا انہوں نے کہا: کون شخص اس خراب کے درہم کے عوض میں مجھے عمدہ چیز فروخت کرے گا؟ پھر انہوں نے ایک چیز خریدلی اور گواہ نہیں بنایا۔ ثوری نے ابن عون کے حوالےسے ابن سیرین کا یہ قول نقل کیا ہے : جب آدمی اس کے کھوٹے ہونے کو بیان کر دے تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
لاَ بَأْسَ بِهِ إِذَا بَيَّنَهُ. ← ابْنِ سِيرِينَ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← الثَّوْرِيُّ ← «مَنْ يَبِيعُنِي عَيْنًا طَيِّبًا بِدِرْهَمٍ خَبِيثٍ، فَاشْتَرَى وَلَمْ يَشْهَدْ» ← رَأَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ مُحْرِزٍ أَتَى السُّوقَ وَمَعَهُ دِرْهَمٌ زَائِفٌ، ← رَبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← أبو جعفر الرازي ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Sales › Chapter: The corruption of the sale if the money is not good, and he is buying with money that is not good? · Hadith 14986
