مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ بَابُ: الرَّجُلُ يَكْتَرِي عَلَى الشَّيْءِ الْمَجْهُولِ، وَهَلْ يَجُوزُ الْكِرَاءُ أَوْ يَأْخُذُ مِثْلَهُ مِنْهُ؟ · حديث 14938
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: عَنِ الثَّوْرِيِّ فِي رَجُلٍ يَكْتَرِي مِنْ رَجُلٍ إِلَى مَكَّةَ وَيَضْمَنُ لَهُ الْكَرْيُ نَفَقَتَهُ إِلَى أَنْ يَبْلُغَ قَالَ: «لَا، إِلَّا أَنْ يُوَقِّتَ أَيَّامًا مَعْلُومَةً، وَكَيْلًا مَعْلُومًا مِنَ الطَّعَامِ يُعْطِيهِ إِيَّاهُ كُلَّ يَوْمٍ»
ثوری نے ایسے شخص کے بارے میں بیان کیا ہے : جو دوسرے شخص سے مکہ تک جانے کے لئے کرائے کے طور پر جانور حاصل کرت اہے اور وہ اس کے لئے کرائے کا ضامن ہو جاتا ہے اور وہ وہاں تک پہنچنے کے لئے خرچ کا ضامن بھی ہوتا ہے تو ثوری نے فرمایا: یہ درست نہیں ہے جب تک وہ متعین دنوںکے بارے میں وضاحت نہیں کرتا اور اناج کی متعین مقدار کی وضاحت نہیں کرت ا جو وہ اس کو روزانہ دے گا ۔
يَضْمَنُ لَهُ الْكَرْيُ نَفَقَتَهُ إِلَى أَنْ يَبْلُغَ ← الثَّوْرِيِّ فِي رَجُلٍ يَكْتَرِي مِنْ رَجُلٍ إِلَى مَكَّةَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Sales › Bab: The man is abhorrent to the unknown thing, and is it permissible to pride or take something similar from it? · Hadith 14938
