مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ أَهْلِ الْكِتَابِ ‹ النَّصْرَانِيَّانِ يُسلِمَانِ لَهُمَا أَوْلَادٌ صِغَارٌ · حديث 9901
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ [ص:29]: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى، يُخْبِرُ عَطَاءً قَالَ: " الْأَمْرُ فِي مَا مَضَى فِي أَوَّلِنَا، الَّذِي يُعْمَلُ بِهِ، وَلَا يُشَكُّ فِيهِ، وَنَحْنُ عَلَيْهِ الْآنَ أَنَّ النَّصْرَانِيِّينَ بَيْنَهُمَا وَلَدُهُمَا صَغِيرٌ يَرِثَانِهِ وَيَرِثُهُمَا، حَتَّى يُفِرِّقَ بَيْنَهُمَا دِينٌ أَوْ يَجْمَعَ، فَإِنْ أَسْلَمَتْ أُمُّهُ وَرِثَتْهُ، كِتَابَ اللَّهِ، وَمَا بَقِيَ لِلْمُسْلِمِينَ، وَإِنْ كَانَ أَبُوهُ نَصْرَانِيًّا، وَهُوَ صَغِيرٌ، وَلَهُ أَخٌ مِنْ أُمِّهِ مُسْلِمٌ أَوْ أُخْتٌ مُسْلِمَةٌ وَرِثَهُ أَخُوهُ، أَوْ أُخْتُهُ كِتَابَ اللَّهِ، ثُمَّ كَانَ مَا بَقِيَ لِلْمُسْلِمِينَ قَالَ: وَلَا يُصَلَّى عَلَى أَبْنَاءِ النَّصْرَانِيِّ، وَلَا نُعَزِّيهِ فِيهِمْ، وَلَا يَتَّبِعُوهُمْ إِلَى قُبُورِهِمْ، وَيَدْفِنُوهُمْ فِي مَقْبَرَتِهِمْ قَالَ: وَإِنْ قَتَلَ مُسْلِمٌ مِنْ أَبْنَائِهِمْ عَمْدًا لَمْ يُقْتَلْ بِهِ، وَكَانَ دِيَتُهُ دِيَةَ نَصْرَانِيٍّ "، قُلْتُ: لِسُلَيْمَانَ: فَوَلَدٌ صَغِيرٌ بَيْنَ مُشْرِكَيْنِ، فَأَسْلَمَ أَحَدُهُمَا، وَوَلَدُهُمَا صَغِيرٌ، فَمَاتَ أَبُوهُم قَالَ: «يَرِثُ وَلَدُهُمَا الْمُسْلِمُ مِنْ أَبَوَيْهِ، وَلَا يَرِثُ الْكَافِرُ مِنْهُمَا، الْوِرَاثَةُ حِينَئِذٍ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَبَيْنَ [ص:30] الْوَلَدِ، وَلَا يَرِثُ الْوَلَدُ حِينَئِذٍ الْكَافِرَ مِنْ أَبَوَيْهِ»
9901 – ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے سلیمان بن موسیٰ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ہم سے پہلے ج شخص گزر چکے ہیں اُن میں راج یہی رہا ہے جس پر عمل کیا جاتا ہے ار جس کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے اور اب ہم اس پر عمل پیرا ہیں کہ جب دو عیسائی میاں بیوی کی اولاد نابالغ ہو تو وہ دونوں اُن کے وارث بنیں گے اور وہ بچہ اُن دونوں کا وارث بنے گا یہاں تک کہ دین اُن دونوں کو الگ کر دے یا اکٹھا کر دے اگر اُس کی ماں مسلمان ہو جاتی ہے تو وہ اُس کی اللہ کی کتاب کے مطابق وارث بنے گی اور جو باقی بچے گا وہ مسلمانوں کو ملے گا خواہ وہ بچہ عیسائی ہو اور وہ بچہ نابالغ ہو اگر بچہ کی ماں کی طرف سے کوئی مسلمان بھائی ہو یا مسلمان بہن ہو تو اُس کا بھائی یا اُس کی بہن بھی اللہ کی کتاب اُس کے وارث بنیں گے پھر جو باقی بچے گا وہ مسلمان کو ملے گا ۔ اُنہوں نے یہ بھی فرمایا:عیسائی شخص کے بچوں کی نماز جنازہ ادا نہیں کیا جائے گا ہم اُن کے حوالے سے عیسائی شخص کے ساتھ تعزیت نہیں کریں گے ہم اُن کے ساتھ قبرستا ن میں دفن کرنے کے لیے نہیں جائیں گے اور اُنہیں عیسائیوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا ۔ اُنہوں نے یہ بات بیان کی ہے : اگر کوئی مسلمان اپنے بچوں میں سے کسی کو جان بوجھ کر قتل کر دیتا ہے تو اس کے بدلے میں اُسے قتل نہیں کیا جائے گا اورا ُس بچہ کی دیت عیسائی کی دیت کی مانند ہو گی ۔
سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى، يُخْبِرُ عَطَاءً ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The People of the Book › The Christians give to them young children · Hadith 9901
