مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ أَهْلِ الْكِتَابِ ‹ مَسْأَلَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 10166
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ قَالَ: كَانَ يَقُولُ بِالْكُوفَةِ رَجُلٌ يَطْلُبُ كُتُبَ دَانْيَالَ، وَذَاكَ الضِّرْبَ، فَجَاءَ فِيهِ كِتَابٌ مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنْ يُرْفَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا أَدْرِي فِيمَا رُفِعْتُ؟ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ عَلَاهُ بِالدِّرَّةِ، ثُمَّ جَعَلَ يَقْرَأُ عَلَيْهِ {الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ} [يوسف: 1]، حَتَّى بَلَغَ {الْغَافِلِينَ} [يوسف: 3] قَالَ: «فَعَرَفْتُ مَا يُرِيدُ»، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، دَعْنِي، فَوَاللَّهِ مَا أَدَعُ عِنْدِي شَيْئًا مِنْ تِلْكَ الْكُتُبِ إِلَّا حَرَقْتُهُ قَالَ: ثُمَّ تَرَكَهُ
10166 - ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں: ایک شخص کوفہ میں حضرت دانیال کی تحریریں اور اس طرح کی اور تحریریں تلاش کرتا پھر رہا تھا اُس کے بارے میں حضرت عمر بن خطاب کا مکتوب آیا کہ اُسے اُن کے سامنے پیش کیا جائے اُس شخص نے کہا: مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کیوں پیش کیا جا رہا ہے ؟ جب وہ حضرت عمر کے پاس آیا تو حضرت عمر نے اپنا درہ بلند کیا اور اُس کے سامنے یہ آیت تلاوت کی : الر ! یہ کتاب مبین کی آیات ہیں۔
دَانْيَالَ، وَذَاكَ الضِّرْبَ، فَجَاءَ فِيهِ كِتَابٌ مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← بِالْكُوفَةِ رَجُلٌ يَطْلُبُ ← كان ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The People of the Book › The question of the people of the book · Hadith 10166
