مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ أَهْلِ الْكِتَابِ ‹ مَا أُخِذَ مِنَ الْأَرْضِ عَنْوَةً · حديث 10129
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ الْبُنَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ: أَنَّ رَجُلًا أَسْلَمَ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: ضَعِ الْجِزْيَةَ عَنْ أَرْضِي، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ أَرْضَكَ أُخِذَتْ عَنْوَةً " أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ الْبُنَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنَّ أَهْلَ أَرْضِ كَذَا وَكَذَا يُطِيقُونَ مِنَ الْخَرَاجِ أَكْثَرَ مِمَّا عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: «لَيْسَ إِلَيْهِمْ سَبِيلٌ، إِنَّمَا صُولِحُوا صُلْحًا»
10129 – ابراہیم نخعی بیا ن کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب کے عہد حکومت میں ایک شخص نے اسلام قبول کیا اور بولا: آپ میری زمین سے جزیہ معا ف کر دیجئے! تو حضر ت عمر نے کہا: تمہاری زمین کو لڑ کر حاصل کیا گیا تھا ۔ ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں: ایک شخص حضرت عمر کے پاس آیا اور بولا : فلا ں علاقہ کے رہنے والے لو گ اتنا اور اتنا خراج دینے کی طاقت رکھتے ہیں یہ تعداد اُس مقدار سے زیادہ تھی جو اُن پر لازم قرار دی گئی تھی تو حضرت عمر نے کہا: یہ نہیں ہو سکتا ! کیونکہ اُن کے ساتھ صلح ہوئی ہے وہ اتنی ہی ادائیگی کریں گے ۔
«لَيْسَ إِلَيْهِمْ سَبِيلٌ، إِنَّمَا صُولِحُوا صُلْحًا» ← إِنَّ أَهْلَ أَرْضِ كَذَا وَكَذَا يُطِيقُونَ مِنَ الْخَرَاجِ أَكْثَرَ مِمَّا عَلَيْهِمْ، ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ← عَلِیِّ بْنِ الْحَکَمِ الْبُنَانِیِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← عُمَرُ: إِنَّ أَرْضَكَ أُخِذَتْ عَنْوَةً ← أَرْضِي، ← ضَعِ الْجِزْيَةَ ← إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ: أَنَّ رَجُلًا أَسْلَمَ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ← عَلِیِّ بْنِ الْحَکَمِ الْبُنَانِیِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The People of the Book › It was not taken from the earth by force · Hadith 10129
