مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ أَهْلِ الْكِتَابِ ‹ غُسْلُ الْكَافِرِ وَتَكْفِينُهُ · حديث 9937
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ أَبُو رَجُلٍ وَكَانَ يَهُودِيًّا فَلَمْ يَتَّبِعْهُ ابْنُهُ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " وَمَا عَلَيْهِ لَوْ غَسَّلَهُ، وَاتَّبَعَهُ، وَاسْتَغَفَرَ لَهُ مَا كَانَ حَيًّا يَقُولُ: دَعَا لَهُ مَا كَانَ الْأَبُ حَيًّا قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ: {فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ} [التوبة: 114] يَقُولُ: «لَمَّا مَاتَ عَلَى كُفْرِهِ»
9937 - سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: ایک شخص کے والد کا انتقال ہو گیا وہ والد یہودی تھا اُس کا بیٹا جنازے کے ساتھ نہیں گیا اُس نے اس بات کا تذکرہ حضرت عبداللہ بن عباس سے کیا تو حضرت عبداللہ بن عباس سے فرمایا: ایسے شخص پر کیا گناہ ہوتا تھا اگر وہ اپنے باپ کو غسل دے دیتا یا اُس کے جنازہ میں جاتا یا اُس کی زندگی میں اُس کی دعائے مغفرت کرتا رہتا وہ اُس کے حق میں اُس وقت دعا کر سکتا ہے جب تک اُس کا باپ زندہ رہا؟ راوی بیان کرتے ہیں: پھر حضرت عبداللہ بن عباس نے یہ آیت تلاوت کی ہے: جب اُس کے سامنے یہ بات واضح ہو گئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اُس نے اُس سے لا تعلقی اختیار کی۔ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں: اس کی وجہ یہ ہے کہ اُن کے والد کا انتقال کفر پر ہوا تھا ۔
«لَمَّا مَاتَ عَلَى كُفْرِهِ» ← ثُمَّ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ← دَعَا لَهُ مَا كَانَ الْأَبُ حَيًّا ← ابْنُ عَبَّاسٍ: وَمَا عَلَيْهِ لَوْ غَسَّلَهُ، وَاتَّبَعَهُ، وَاسْتَغَفَرَ لَهُ مَا كَانَ حَيًّا ← ذَلِكَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ ← تُوُفِّيَ أَبُو رَجُلٍ وَكَانَ يَهُودِيًّا فَلَمْ يَتَّبِعْهُ ابْنُهُ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي سِنَانٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The People of the Book › The infidel washing and shrouding him · Hadith 9937
