مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ غَزْوَةُ الْقَادِسِيَّةِ وَغَيْرُهَا · حديث 9780
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: " لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْقَادِسِيَّةِ كَانَ عَلَى الْخَيْلِ قَيْسُ بْنُ مَكْشُوحٍ الْعَبْسِيُّ، وَعَلَى الرَّجَّالَةِ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ الثَّقَفِيُّ، وَعَلَى النَّاسِ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ قَيْسٌ: قَدْ شَهِدْتُ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ، وَيَوْمَ أَجْنَادِينَ، وَيَوْمَ عَبْسٍ، وَيَوْمَ فَحْلٍ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ عَدِيدًا، وَلَا حَدِيدًا، وَلَا صَنْعَةً لِقِتَالٍ، وَاللَّهِ مَا يُرَى طَرَفَاهُمْ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: إِنَّ هَذَا زَبَدٌ مِنْ زَبَدِ الشَّيْطَانِ، وَإِنَّا لَوْ قَدْ حَمَلَنَا عَلَيْهِمْ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَلَا أُلْفِيَنَّكَ إِذَا حَمَلَتُ عَلَيْهِمْ بِرَجَّالَتِي أَنْ تَحْمِلَ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ فِي أَقْفِيَتِهِمْ، وَلَكِنْ تَكُفُّ عَنَّا خَيْلَكَ وَاحْمِلْ عَلَى مَنْ يَلِيكَ " قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، إِنِّي لَأَرَى الْأَرْضَ مِنْ وَرَائِهِمْ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ: «اجْلِسْ فَإِنَّ الْقِيَامَ وَالْكَلَامَ عِنْدَ الْقِتَالِ فَشَلٌ، وَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُصَلِّيَ، فَلْيُصَلِّ فِي مَرْكَزِ رُمْحِهِ» ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي هَازٌّ دَابَّتِي ثَلَاثًا، فَإِذَا هَزَزْتُهَا الْمَرَّةَ الْأُولَى فَتَهَيَّئُوا، ثُمَّ إِذَا هَزَزْتُهَا الثَّالِثَةَ فَتَهَيَّئُوا لِلْحَمْلَةِ» أَوْ قَالَ: «احْمِلُوا فَإِنِّي حَامِلٌ» قَالَ: فَهَزَّهَا الثَّالِثَةَ، ثُمَّ حَمَلَ وَإِنَّ عَلَيْهِ لَدِرْعَيْنِ قَالَ: فَمَا وَصَّلْنَا لِنَفْسِهِ حَتَّى صَافيهُمْ بِطَعْنَتَيْنِ وَفَلَتَ بَيْنَهُ، وَكَانَ الْفَتْحُ قَالَ: فَجَعَلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ حَتَّى يَكُونُوا رُكَامًا، فَمَا نَشَاءُ أَنْ نَأْخُذَ رَجُلَيْنِ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فَنَقْتُلُهُ إِلَّا فَعَلْتُ
حمید بن حلال بیان کرتے ہیں: جنگ قادسیہ کے موقع پر گھڑ سواروں کے امیر قیس بن مکثوع عبسی تھے پیادہ ا فراد کے امیر جنگ حضرت مغیرہ بن شعبہ ثقفی تھے لوگوں کے امیر حضرت سعد بن ابی وقاص تھے قیس نے یہ کہا کہ مین جنگ یرموک میں جنگ اجنادین میں جنگ عبس میں شریک ہوا ہوں لیکن میں نے آج کے دن کی طرح لوگوں کی تعداداور اسلحہ اور جنگ کی تیاری نہیں دیکھی اللہ کی قسم! اُن لوگوں کے کنارے دکھائی نہیں دے رہے اس پر حضرت مغیرہ بن شعبہ نے کہا : یہ شیطان کا بیایا ہوا جھاگ ہے جب ہم ان پر حلمہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ اُن کے خلاف کر دے گا اور میں تمہیں ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ جب میں ان پر اپنے پیادہ افراد کے ساتھ حملہ کروں تو تم اُسی وقت اُن پر اپنے گھڑ سوار کے ساتھ اُن کے پیچھے حملہ کر دو بلکہ تم اپنے گھڑ سواروں کو ہم سے دور رکھنا اور اُن لوگوں پر حملہ کرنا تو تم لوگو ں کے قریب ہوں گے ۔ راو ی کہتے ہیں: تو ایک شخص کھڑا ہوا ور بولا: اللہ اکبر! مجھے اُن لوگوں کے پیچھے زمین نظر آگئی تو حضرت مغیرہ نے کہا: تم بیٹھ جاؤ! کیونکہ جنگ کے وقت قیام کرنا یا کلام کرنا ہوتا ہے۔
حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Maghazi Book › The invasion of Al-Qadasiyah and other things · Hadith 9780
