مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ بَدْءُ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 9756
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ خُطْبَةَ عُمَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ الْآخِرَةَ حِينَ جَلَسَ عَلَى مِنْبَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَلِكَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَتَشَهَّدَ عُمَرُ، وَأَبُو بَكْرٍ صَامِتٌ لَا يَتَكَلَّمُ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: " أَمَا بَعْدُ، فَإِنِّي قُلْتُ مَقَالَةً، وَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ كَمَا قُلْتُ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ الْمَقَالَةَ الَّتِي قُلْتُ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَلَا فِي عَهْدٍ عَهِدَهُ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:438]، وَلَكِنِّي كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَعِيشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَدْبُرَنَا - يُرِيدُ بِذَلِكَ حَتَّى يَكُونَ آخِرَهُمْ - فَإِنْ يَكُ مُحَمَّدٌ قَدْ مَاتَ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ جَعَلَ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ نُورًا تَهْتَدُونَ بِهِ: هَذَا كِتَابُ اللَّهِ فَاعْتَصِمُوا بِهِ تَهْتَدُونَ لِمَا هَدَى اللَّهُ بِهِ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَحِمَهُ اللَّهُ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَانِي اثْنَيْنِ، وَإِنَّهُ أَوْلَى النَّاسِ بِأُمُورِكُمْ، فَقُومُوا فَبَايَعُوهُ " وَكَانَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ قَدْ بَايَعُوهُ قَبْلَ ذَلِكَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ، وَكَانَتْ بَيْعَةُ الْعَامَّةِ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي أَنَسٌ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ عُمَرَ يُزْعِجُ أَبَا بَكْرٍ إِلَى الْمِنْبَرِ إِزْعَاجًا
9756 –زہری بیان کرتے ہیں: حضرت انس بن مالک نے مجھے یہ بات بتائی ہے : اُنہوں نے حضرت عمر کا خطبہ سنا اللہ تعالیٰ اُن پر رحم کرے ! جب وہ نبی اکرمﷺ کے منبر پر بیٹھے تھے اور یہ نبی اکرمﷺ کے وصال سے اگلے دن کی بات ہے ۔ حضرت انس بیان کرتے ہیں: حضرت عمر نے کلمہ شہادت پڑھا حضرت ابو بکر خاموش رہے اُنہوں نے کوئی کلام نہیں کیا پھر حضرت عمر نے کہا:اما بعد! میں نے ایک بات کہی تھی حالانکہ صورت حا ل وہ نہیں تھی جو میں نے کہی تھی اللہ کی قسم! میں نے جو بات کہی تھی میں نے اس بارے میں اللہ کی کتاب میں کوئی بات نہیں پائی اور نہ ہی اس بارے میں نبی اکرمﷺ نے کوئی بات بیان کی لیکن مجھے یہ اُمید تھی کہ نبی اکرمﷺ اُس وقت تک زندہ رہے گے جب تک ہم سب کا انتقال نہیں ہو جاتا حضرت عمر کی مراد یہ تھی کہ ہم سب میں سب سے آخر میں نبی اکرمﷺ کا وصال ہو گا۔ بہر حال اگر محمد ﷺ کا انتقا ہو گیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان ایک نور رکھا ہے جس کے ذریعہ تم ہدایت حاصل کر سکتے ہو یہ اللہ کی کتا ہے تم اسے مضبوطی سے تھام لو تم لگ ہدایت پا لو گے یہ وہ ہدایت ہے جو اللہ نے محمد ﷺ کو دی تھی ۔ پھر حضرت ابو بکر اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے ! یہ اللہ کے رسول کے ساتھی ہیں اور دو افراد میں سے ایک ہیں یہ تمہارے معاملات کے بارے میں سب سے معزز شخصیت ہیں تم لوگ اُٹھو اور ان کی بیعت کر لو۔ زہری بیان کرتے ہیں: حضرت انس نے مجھے بتایا : میں نے حضرت عمر کو دیکھا کہ وہ حضرت ابو بکر کو کھینچ کر منبر کی طرف لے جا رہے تھے ۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 9756
