مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ وَقْعَةُ حُنَيْنٍ · حديث 9742
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ حَرَامَ بْنَ مِلْحَانَ، وَهُوَ خَالُ أَنَسٍ طُعِنَ يَوْمَئِذٍ فَتَلَقَّى دَمَهُ بِكَفِّهِ، ثُمَّ نَضَحَهُ عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَقَالَ: فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَخْبَرَنِي عَاصِمٌ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: «مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى شَيْءٍ قَطُّ مَا وَجَدَ عَلَى أَصْحَابِ بِئْرِ مَعُونَةَ، وَأَصْحَابِ سَرِيَّةِ الْمُنْذِرِ بْنِ عَمْرٍو، فَمَكَثَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى الَّذِينَ أَصَابُوهُمْ فِي قُنُوتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ وَلِحْيَانَ وَهُمْ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ»
حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں: حضرت حرام بن ملحان جو حضرت انس کے ماموں تھے وہ اُس دفن زخمی ہوئے تھے اُنہوں نے اپنا خون اپنےہاتھوں پر ملا پھر اُسے اپنےسر اور اپنے چہرے پر لگایااور بولے : رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا! معمر نے عاصم کے حوالےسے حضرت انس بن مالک کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں نے نبی اکرمﷺ کو کبھی کسی بات پر اتنا غمگین نہیں دیکھا جتنا غمگین آپ بئرمعونہ میں شہید ہونےوالے لوگوں کی شہادت ہر ہوئے تھے جو لوگ منذر بن عمرو کی جنگی مہم میں شریک ہوئے تھے آپ صبح کی نما ز میں قنوت نازلہ پڑھتے ہوئے ان حضرات میں حملہ کر نے والوں کے خلاف ایک ماہ تک دعا ضرر کرتے رہے تھے ۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 9742
