مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ وَقْعَةُ هُذَيْلٍ بِالرَّجِيعِ، وَالرَّجِيعُ مَوْضِعٌ · حديث 9730
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً عَيْنًا لَهُ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ وَهُوَ جَدُّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ نُزُولًا، فَذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو لِحْيَانَ فَتَبِعُوهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ حَتَّى رَأَوْا آثَارَهُمْ، حَتَّى نَزَلُوا مَنْزِلًا يَرَوْنَهُ، فَوَجَدُوا فِيهِ نَوَى تَمْرٍ يَرَوْنَهُ مِنْ تَمْرِ الْمَدِينَةِ فَقَالُوا: هَذَا مِنْ تَمْرِ يَثْرِبَ [ص:354]، فَاتَّبَعُوا آثَارَهُمْ حَتَّى لَحِقُوهُمْ، فَلَمَّا أَحَسَّهُمْ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَصْحَابُهُ، لَجَأُوا إِلَى فَدْفَدٍ، وَجَاءَ الْقَوْمُ فَأَحَاطُوا بِهِمْ فَقَالُوا: لَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ، إِنْ نَزَلْتُمْ إِلَيْنَا لَا نَقْتُلُ مِنْكُمْ رَجُلًا فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ: أَمَّا أَنَا فَلَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ، اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا رَسُولَكَ قَالَ: فَقَاتَلُوهُمْ حَتَّى قَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةِ نَفَرٍ وَبَقِيَ خُبَيْبُ بْنُ عَدِيٍّ، وَزَيْدُ بْنُ دَثِنَةَ، وَرَجُلٌ آخَرَ فَأَعْطَوْهُمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ إِنْ نَزَلُوا إِلَيْهِمْ فَنَزَلُوا إِلَيْهِمْ، فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ حَلُّوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ فَرَبَطُوهُمْ بِهَا فَقَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ الَّذِي كَانَ مَعَهُمَا هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ، فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ فَجَرُّوهُ فَأَبَى أَنْ يَتَّبِعَهُمْ وَقَالَ: لِي فِي هَؤُلَاءِ أُسْوَةٌ، فَضَرَبُوا عُنُقَهُ، وَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبِ بْنِ عَدِيٍّ، وَزَيْدِ بْنِ دَثِنَةَ، حَتَّى بَاعُوهُمَا بِمَكَّةَ فَاشْتَرَى خُبَيْبًا بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ، وَكَانَ هُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ يَوْمَ بَدْرٍ فَمَكَثَ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا حَتَّى إِذَا أَجْمَعُوا عَلَى قَتَلِهِ، اسْتَعَارَ مُوسَى مِنْ إِحْدَى بَنَاتِ الْحَارِثِ لِيَسْتَحِدَّ بِهَا، فَأَعَارَتْهُ قَالَتْ: فَغَفَلْتُ عَنْ صَبِيٍّ لِي فَدَرَجَ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَاهُ قَالَتْ: فَأَخَذَهُ فَوَضَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ فَزِعْتُ فَزَعًا عَرَفَهُ فِيَّ، وَالْمُوسَى بِيَدِهِ قَالَ: أَتَخْشَيْنَ أَنْ أَقْتُلَهُ؟ مَا كُنْتُ لِأَنْ أَفْعَلَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ: فَكَانَتْ تَقُولُ: مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ، لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ مِنْ قِطْفِ عِنَبٍ، وَمَا بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ ثَمَرَةٌ، وَإِنَّهُ لَمُوثَّقٌ فِي الْحَدِيدِ، وَمَا كَانَ إِلَّا رِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ، ثُمَّ [ص:355] خَرَجُوا بِهِ مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ فَقَالَ: دَعُونِي أُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنْ تَرَوْا أَنَّ مَا بِي جَزْعٌ مِنَ الْمَوْتِ، لَزِدْتُ، فَكَانَ أَوَّلَّ مَنْ سَنَّ الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْقَتْلِ هُوَ ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا، ثُمَّ قَالَ: [البحر الطويل] وَلَسْتُ أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ شِقٍّ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارَكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَتَلَهُ قَالَ: وَبَعَثَ قُرَيْشُ إِلَى عَاصِمٍ لِيُؤْتُوا بِشَيْءٍ مِنْ جَسَدِهِ يَعْرِفُونَهُ، وَكَانَ قَتَلَ عَظِيمًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ، فَبَعَثَ اللَّهُ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدُّبُرِ فَحَمَتْهُ مِنْ رُسُلِهِمْ، فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى شَيْءٍ مِنْهُ "
حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے جاسوسی کے لیے ایک مہم روانہ کی آپ نے حضرت عاصم بن ثابت کو اُن کا امیر مقرر کیا جو عاصم بن عمر نامی راوی کے دادا ہیں وہ لوگ روانہ ہوئے راستہ میں کسی جگہ پر عسفان اور مکہ کے درمیان اُن لوگوں نے پڑاؤ کیا ہذیل قبیلہ کے ایک ذیلی قبیلہ بنو لحیان کو اُن کے بارے میں پتا چل گیا وہ ایک سو تیر اندازوں کے ساتھ اُن کے پیچھے آئے اُنہوں نے اُن کے قدموں کے نشانات دیکھے اُنہوں نے ایسی جگہ پڑاؤ کیا تھا جہاں اُنہوں نے دیکھا کہ اُنہیں کھجوروں کی گھٹلیاں ملی ہیں جو مدینہ منورہ کی کھجوریں تھی اُن لوگوں نے کہا: یہتو یثرب کھجوریں ہیں پھر وہ لوگ ان کا پیچھا کرتے ہوئے ان کے پاس پہنچ گئے جب حضرت عاصم بن ثابت اور اُن کے ساتھیوں کو اُن کی آمد کا اندازہ ہوا تو وہ لوگ ایک کی پناہ میں چلے گئے دشمن آیا اور اُنہوں نے ان حضرات کو گھیر لیا اور یہ کہا: تم لوگوں کے ساتھ پکا وعدہ ہے کہ اگر تم اُتر کر ہمارے پاس آجاؤ تو ہم تم میں سے کسی بھی شخص کو قتل نہیں کریں گے۔ تو حضرت عاصم بن ثابت نے کہا: میں کسی کافر شخص کی پناہ کی وجہ سے نیچے نہیں اُتروں گا اے اللہ! تو اپنے رسول کو ہمارے بارے میں بتا دینا ۔ وہ عورت بیان کرتی ہیں: میں نے حضرت خبیب سے بہتر قیدی کبھی نہیں دیکھا میں نے اُنہیں انگور کھاتے ہوئے دیکھا حالانکہ اُن دنوں مکہ میں یہ پھل نہیں تھا وہ لوہے میں بندھے ہوئے تھے یہ وہ رزق تھا جو اللہ تعالیٰ نے اُنہیں عطا ء کیا تھا پھر وہ لوگ اُنہیں لے کر حرم کی حدود سے باہر گئے تاکہ اُنہیں قتل کر دیں ۔ تو حضرت خبیب نے کہا: تم لوگ مجھے دو رکعت ادا کرنے کا موقع دو ! اُنہوں نے دو رکعت ادا کیں پھر اُنہوں نے فرمایا: اگر تم لوگ یہ نہ سمجھے کہ میں موت کے ڈر کی وجہ سے ایسا کر رہا ہوں تو میں لمبی نماز ادا کرتا ۔ تو اُنہوں نے قتل ہونے کے وقت دو رکعت ادا کرنے کا طریقہ کا آغاز کیا پھر اُنہوں نے دعا کی: اے اللہ! عد کے اعتبار سے ان کو شمار کر لے! پھر اُنہوں نے یہ شعر پڑھا : جب مجھے مسلمان ہونے کے عالم میں قتل کیا جاتا ہے تو پھر میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ کے کون سے پہلو کے بل گرتا ہوں اگر وہ معبود چاہے تو میرے کٹے ہوئے جسم کے اعضا ء میں بھی برکت رکھ دے گا ۔ پھر عتبہ بن حارث اُٹھ کر اُن کے پاس آیا اور اُس نے اُنہیں شہید کر دیا ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ الثَّقَفِيُّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 9730
