مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ بَابُ سِبَاقِ الْخَيْلِ · حديث 9697
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ اسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سَابَقَ حُذَيْفَةُ النَّاسَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ أَشْهَبَ قَالَ: فَسَبَقَهُمْ قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ دَارَهُ قَالَ: فَإِذَا هُوَ عَلَى مَعْلَفِهِ، وَهُوَ عَلَى رَمْلَةٍ، يَقْطُرُ عَرَقًا عَلَى شَمْلَةٍ لَهُ، وَحُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ جَالِسٌ عِنْدَهُ عَلَى قَدَمَيْهِ، مَا تَمَسُّ أَلْيَتَاهُ الْأَرْضَ قَالَ: فَجَعَلَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِ يُهَنِّئُونَهُ وَيَقُولُونَ: لِيَهْنَأْكَ السَّبْقُ قَالَ: فَدَخَلَ رَجُلٌ، وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا فَقَالَ رَجُلٌ: أَلَا تُهَنِّئُهُ؟ قَالَ: بِمَ؟ قَالَ: سَبَقَ فَرَسُهُ قَالَ: أَخْشَى أَنْ يَبْلُغَ ذَلِكَ الْأَمِيرَ قَالَ: وَعَلَى النَّاسِ يَوْمَئِذٍ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: «تَاللَّهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَلِيَ عَلَيْكُمْ مَنْ لَا يَزِنُ عُشْرَ بَعُوضَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
9697 - عبداللہ بن حصین بیان کرتے ہیں: حضرت حذیفہ نے اپنے گھوڑے اشہب پر بیٹھ کر لوگوں کے ساتھ گھڑ دوڑ میں حصہ لیا اور اُن سے آگے نکل گیا ۔راوی کہتے ہیں: ہم اُن کے ہاں اُن کے گھر گئے تو وہ اپنے چارے کے پاس موجود تھے ۔ حضرت حذیفہ بن یمان اُس گھوڑوں کے قدموں کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور اُن سے سرین زمین کو نہیں چھو رہے تھے ۔ راوی کہتے ہیں: لوگ اُن کے پاس آکر اُنہیں مبارکباد دینے لگے اور یہ کہنے لگے : آپ کو گھڑ دوڑ میں جیت مبارک ہو !پھر ایک شخص اندر ایا ا ُس نے کچھ نہیں کہا تو ایک دوسرے شخص نے اُن سے کہا: تم اُنہیں مبارکباد کیوں نہیں دیتے ؟ اُس نے دریافت کیا: کس چیز کی؟ دوسرے نے کہا: ان کا گھوڑا جیت گیا ہے ۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ حُصَيْنٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 9697
