مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الشَّهِيدِ وَغُسْلِهِ · حديث 9602
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: " لَمَّا أَرَادَ مُعَاوِيَةُ أَنْ يُجْرِي الْكَظَامَةُ قَالَ: مَنْ كَانَ لَهُ قَتِيلٌ فَلْيَأْتِ قَتِيلَهُ، - يَعْنِي قَتْلَى أُحُدٍ - قَالَ: فَأَخَرَجَهُمْ رِطَابًا يَتَثَنُّونَ قَالَ: فَأَصَابَتِ الْمِسْحَاةُ رِجْلَ رَجُلٍ مِنْهُمْ، فَانْفَطَرَتْ دَمًا " قَالَ: فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: «لَا يُنْكِرُ بَعْدَ هَذَا مُنْكِرٌ أَبَدًا»
9602 – ابو زبیر بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ جب حضرت معاویہ نے نہر جار ی کرنے کا ارادہ کیا تو اُنہوں نے فرمایا: جس کا کوئی مقتول ہو وہ اپنے مقتول کے پاس آجائے یعنی شہدا ء اُحد کے بارے میں ا نہوں نے یہ بات کہی پھر اُنہوں نے اُن حضرات کی میتیں نکالیں یوں کہ وہ باہر ترو تازہ تھی ۔ راوی کہتے ہیں: کھدائی کے دوران اُن میں سے ایک شخص کے پاؤں پر پھاؤڑا لگ گیا تو اُن میں سے خون بھی بہنے لگا ۔ راوی کہتے ہیں: اس پر ابو سعید نے یہ بات بیان کی کہ اس کے بعد کوئی منکر کبھی انکار نہیں کر سکے گا ۔
فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: «لَا يُنْكِرُ بَعْدَ هَذَا مُنْكِرٌ أَبَدًا» ← فَأَصَابَتِ الْمِسْحَاةُ رِجْلَ رَجُلٍ مِنْهُمْ، فَانْفَطَرَتْ دَمًا ← فَأَخَرَجَهُمْ رِطَابًا يَتَثَنُّونَ ← مَنْ كَانَ لَهُ قَتِيلٌ فَلْيَأْتِ قَتِيلَهُ، يَعْنِي قَتْلَى أُحُدٍ ← لَمَّا أَرَادَ مُعَاوِيَةُ أَنْ يُجْرِي الْكَظَامَةُ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Jihad › The door of prayer for the martyr and his washing · Hadith 9602
