مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ بَابُ الْغُلُولِ · حديث 9506
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بنِ دِينَارٍ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلَانًا غَلَّ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْ فُلَانُ، هَلْ فَعَلْتَ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الرَّجُلِ الَّذِي أَخْبَرَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، احْفُرُوا هَاهُنَا، فَحَفَرُوا فَاسْتَخْرَجُوا قَطِيفَةً فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لَهُ فَقَالَ: «دَعُونَا مِنْ أَبِي خَرْءٍ»، يَعْنِي الْعَذِرَةَ
9506 – عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں: اُس شخص غزوہ اُحد کے دن نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اُس نے عرض کی: یا رسول اللہ! فلاں شخص نے فلاں فلاں خیانت کی ہے نبی اکرمﷺ نے اُس دوسرے شخص سے دریافت کیا: اے فلاں! کیا تم نے کچھ کیا ہے؟ اُس نے جواب دیا: جی ہاں! راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرمﷺ نےاُس شخص کی طرف دیکھا جس نے آپ کو اطلاع دی تھی اُس نےعرض کی : یا رسول اللہ! آپ فلاں جگہ کو کھودیں ! لوگوں نے اُس جگہ کو کھودا تو اُنہیں اُس جگہ ایک چادر ملی ۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ اس کے لیے دعائے مغفرت کیجئے! تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اس گندگی والے شخص کے حوالے سے ہمیں ایسے ہی رہنے دو۔
أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Jihad › The door of the chagrin · Hadith 9506
