مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ بَابُ السَّلَبِ وَالْمُبَارَزَةِ · حديث 9470
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ فَقَالَ: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُمْ يَا زُبَيْرُ» فَقَالَتْ صَفِيَّةُ: أَوَحِيدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّهُمَا عَلَا صَاحِبَهُ قَتَلَهُ؟» فَعَلَاهُ الزُّبَيْرُ فَقَتَلَهُ، فَنَفَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ
9470 – عکرمہ بیان کرتے ہیں: بنو قریظہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا : کون میرے مقابلہ میں آئے گا ؟ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے زبیر! تم اُٹھو ! تو سیدہ صفیہ نے عرض کی : یا رسول اللہ! صرف میں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ان دونوں میں سے جو دوسرے پر غالب آگیا وہ اسے قتل کر دے گا ۔ تو حضرت زبیر اُس پر غالب آگئے اور اُسے قتل کر دیا ۔ تو نبی اکرمﷺ نے اُس مشرک کا سازو سامان اُنہیں انعام کے طور پر دے دیا ۔
صَفِيَّةُ: أَوَحِيدِي ← النبي قم يا زبير ← مَنْ يُبَارِزُ ← قَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Jihad › Chapter of insulting and dueling · Hadith 9470
