مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ بَابُ دُعَاءِ الْعَدُوِّ · حديث 9434
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى جُذَيْمَةَ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا: أَسْلَمْنَا، وَجَعَلُوا يَقُولُونَ: صَبَأْنَا، صَبَأْنَا، وَجَعَلَ خَالِدٌ بِهِمْ قَتْلًا وَأَسْرًا، وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرًا [ص:222]، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمٌ أَمَرَنَا أَنْ يَقْتُلَ كُلٌّ رَجَلٌ مِنَّا أَسِيرَهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي، وَلَا يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ، فَقِدِمْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَفَعَ - يَعْنِي يَدَيْهِ - فَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَبَرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ» مَرَّتَيْنِ
9434 - حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے حضرت خالد بن ولید کو جذامہ کی طرف بھیجا اُنہوں نے اُن لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دی وہ لوگ صحیح طریقہ سے جواب نہیں دے سکے کہ ہم اسلام قبول کر رہے ہیں اُنہوں نے کہا: ہم نے دین تبدیل کر دیا ! ہم نے دین تبدیل کر دیا! تو حضرت خالد نے اُن میں سے کچھ لوگوں کو قتل کر دیا اور کچھ کو قیدی بنا لیا اُنہوں نے ہم میں سے ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کر دے تو حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں : میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور میرے ساتھیوں میں سے بھی کوئی شخص اپنے قیدی کو قتل نہیں کرے گا جب ہم نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی اکرمﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور عرض کی: اے اللہ! خالد نے جو کچھ کیا ہے اس کے حوالے سے میں تیری بارگاہ میں برات کا اظہار کرتا ہوں یہ بات آپ نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Jihad › The door of an enemy supplication · Hadith 9434
