مصنف عبدالرزاق · كتاب فضائل القرآن ‹ بَابُ السَّجْدَةِ عَلَى مَنِ اسْتَمَعَهَا · حديث 5905
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: السُّجُودُ وَاجِبٌ؟ قَالَ: لَا، بَلَغَنِي أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَيْنَا هُوَ يَقْرَأُ سُورَةً فِيهَا سَجْدَةٌ فَسَجَدَ مَنْ حَوْلَهُ، فَقَالَ: «لَوْلَا أَنَّكُمْ سَجَدْتُمْ مَا سَجَدْتُ، وَلَيْسَ فِي الصَّلَاةِ»
ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: کیا سجدہ تلاوت لازم ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب نے ایک ایسی سورت کی تلاو ت کی جس میں سجدہ تلاوت تھا تو اُن کے آس پ پاس موجود لوگوں نے سجدہ تلاوت کیا پھر حضرت عمر نے فرمایا: اگر تم لوگوں نے سجدہ نہ کیا ہوتا تو میں یہ سجدہ نہ کرتا کیونکہ یہ نما ز میں نہیں ہے۔
قُلْتُ لِعَطَاءٍ: السُّجُودُ وَاجِبٌ؟ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 5905
