مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ ‹ بَابُ التَّكْبِيرِ فِي الصَّلَاةِ يَوْمَ الْعِيدِ · حديث 5676
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: " التَّكْبِيرُ فِي الصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ تَكْبِيرَةً يُكَبِّرُهُنَّ وَهُوَ قَائِمٌ: سَبْعَةٌ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى: مِنْهُنَّ تَكْبِيرَةُ الْاسْتِفْتَاحِ لِلصَّلَاةِ، وَمِنْهُنَّ تَكْبِيرَةُ الرَّكْعَةِ، وَمِنْهُنَّ سِتٌّ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، وَمِنْهُنَّ وَاحِدَةٌ بَعْدَهَا، وَفِي الْأُخْرَى سِتُّ تَكْبِيرَاتٍ: مِنْهُنَّ تَكْبِيرَةٌ لِلرَّكْعَةِ، وَمِنْهُنَّ خَمْسٌ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، وَوَاحِدَةٌ بَعْدَهَا " قُلْتُ لَهُ: إِنَّ يُوسُفَ بْنَ مَاهَكَ، أَخْبَرَنِي أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ لَا يُكَبِّرُ إِلَّا أَرْبَعًا فِي كُلِّ رَكْعَةٍ سَوَاءٌ يُكَبِّرُهُنَّ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، سَمِعْنَا ذَلِكَ مِنْهُ، فَقَالَ عَطَاءٌ: إِنَّ الَّذِي أَخَذْتُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْهُ هُوَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ مِنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، قُلْتُ: مَنْ؟ قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ
عطاء فرماتے ہیں: عید کے دن نماز میں تیرہ تکبیریں کہی جائیں گی آدمی قیام کی حالت میں یہ سب تکبیریں کہے گا سات تکبیریں پہلی رکعت میں ہوں گئ جن میں سے ایک تکبیر نماز کے آغاز کے لیے ہو گی اور ایک تکبیر رکوع میں جانے کے لیے ہو گی ان میں سے چھ تکبیریں تلاوت سے پہلے ہوں گے اور ایک تکبیر تلاوت کے بعد ہو گی جبکہ دوسری رکعت میں چھ رکعت تکبریں کہی جائیں گی جن میں ست ایک تکبیر رکوع کے لیے ہو گی اور پانچ کتبیریں تلاوت سے پہلے ہوں گی اور ایک تکبیر تلاوت کے بعد ہو گی۔ ابن جریح کہتے ہیں: میں نے اُن سے دریافت کیا: یوسف بن ماہک نے یہ بات بیان کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر نے مجھے یہ بتایا ہے کہ ہر رکعت میں چار تکبیریں کہی جائیں گی اور دونوں رکعت میں برابر کی تکبیر کہی جائیں گی ہم نے یہ بات اُن سے سنی ہے ۔ تو عطا ء نے جواب دیا: میں نے یہ روایت اُس شخص سے حاصل کی ہے جو حضرت عبداللہ بن زبیر سے زیادہ علم رکھتی ہے ! باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ میں نے دریافت کیا: وہ شخصیت کون ہے؟ اُنہوں نے جواب دیا: حضرت عبداللہ بن عباس۔
عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 5676
