مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ الصَّبْرِ وَالْبُكَاءِ وَالنِّيَاحَةِ · حديث 6701
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ زَوْجِهَا أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُصَابُ مُصِيبَةً فَيَقُولُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي عِنْدَكَ، اللَّهُمَّ أَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا " فَجَعَلْتُ أَقُولُ فِي نَفْسِي مَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَنِي فَتَزَوَّجْتُهُ
حضرت عمر بن ابو سلمہ اپنی والدہ سیدہ اُم سلمہ کے حوالے سے اُن کے شوہر حضرت ابو سلمہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: اُنہوں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جس بھی مسلمان کو کوئی مصیبت لاحق ہو اور اُس وقت وہ یہ پڑھ لے : بےشک ہم اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں اور بے شک ہم نے اُسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں اپنی اس مصیبت پر ثواب کی اُمید رکھتا ہوں اے اللہ! تو مجھے اس کے بدلے میں بہتر چیز عطا ء کر دے۔ میں نے دل میں سوچا کہ کیا حضرت ابو سلمہ سے بہتر بھی کوئی اور شخص ہو سکتا ہے ؟ تو نبی اکرمﷺ تشریف لائے آپ نے مجھے نکاح کا پیغام دیا تو میں نے آپ کے ساتھ شادی کر لی ۔
لِلَّهِ ← مَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُصَابُ مُصِيبَةً ← رَسُولِ اللَّهِ ← زَوْجِهَا أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ ← أمه أم سَلمَة ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › Door of patience, weeping and mourning · Hadith 6701
