مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ غُسْلِ الْمَيِّتِ · حديث 6077
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ يُخْبِرُنَا قَالَ: «غُسِّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَمِيصٍ، وَغُسِّلَ ثَلَاثًا كُلُّهُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَوَلِيَ عَلِيٌّ سَفْلَتَهُ، وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ يَحْتَضِنُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْعَبَّاسُ يَصُبُّ الْمَاءَ» قَالَ: وَعَلِيٌّ يَغْسِلُ سَفْلَتَهُ وَيَقُولُ: الْفَضْلُ لِعَلِيٍّ: أَرِحْنِي أَرِحْنِي، قَطَعْتَ وَتِينِي، إِنِّي لَأَجِدُ شَيْئًا يَتَنَزَّلُ عَلَيَّ، قَطَعْتَ وَتِينِي قَالَ: " وَغُسِّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بِئْرٍ لِسَعْدِ بْنِ خُثَيْمَةَ يُقَالُ لَهَا: الْغَرْسُ بِقِبَا قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَغْسِلُ رَأْسَهُ إِلَّا بِسِدْرٍ، وَبِهِ نَأْخُذُ. قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّزَّاقِ: يُبْدَأُ بِالرَّأْسِ أَوْ بِاللِّحْيَةِ؟ قَالَ: السُّنَّةُ لَا شَكَّ يُبْدَأُ [ص:398] بِالرَّأْسِ ثُمَّ اللِّحْيَةِ ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّ مَعْمَرًا أَخْبَرَهُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: «يُبْدَأُ بِالرَّأْسِ، ثُمَّ اللِّحْيَةِ، ثُمَّ الْمَيَامِنِ، يَعْنِي غُسِّلَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ثُمَّ بِمَاءٍ، فَهِيَ وَاحِدَةٌ. كُلُّ غَسْلَةٍ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ثُمَّ بِمَاءٍ، فَهِيَ وَاحِدَةٌ»
6077 - ابن جریح بیان کرتے ہیں: امام محمد باقر نے مجھے یہ بات بتائی کہ نبی اکرمﷺ کو قمیص سمیت غسل دیا گیا آپ کو تین مرتبہ غسل دیا گیا ہر مرتبہ پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعہ غسل دیا گیا حضرت علی آپ کے زیریں حصے کہ نگران تھے حضرت فضل بن عباس آپ کو کروٹ دلا رہے تھے جبکہ حضر ت عباس پانی انڈیل رہے تھے ۔ راوی کہتے ہیں: حضرت علی نے آپ کے زیریں حصہ کو دھویا تو حضرت فضل نے حضرت علی سے کہا : مجھے سمبھلنے دیں ! مجھے سمبھلنے دیں !آپ نے میری وتین کاٹ دی ہے مجھے محسوس ہوا ہے کہ جیسے کوئی چیز مجھ پر آئی ہے آپ نے میری وتین کاٹ دی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کو حضرت سعد بن خثیمہ کے کنویں سے غسل دیا گیا تھا جس کا نام غرس تھا اور جو قبا ء میں تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ ہمیشہ اپنا سر بیری کے پتہ کے ذریعہ دھوتے تھے ۔ ہم اس کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں ۔ میں نے امام عبدالرزاق سے دریافت کیا: کیا پہلے سر دھویا جائے گا ؟ یا داڑھی دھوئی جائے گی ؟ اُنہوں نے فرمایا: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سنت یہ ہے پہلے سر کو دھویا جائے گا پھر داڑھی کو دھویا جائے گا پھر پانی کے ذریعہ غسل دیا جائے گا تو یہ ایک مرتبہ ہو جائے گا ہر مرتبہ پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعہ اور پھر پانی کے ذریعہ غسل کیا جائے تو یہ ایک مرتبہ ہو جائے گا ۔
مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ يُخْبِرُنَا ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 6077
