مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ وَلَا يُعْرَفُ مَكَانُهُ · حديث 1448
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ اعْتَمَرَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي رَكْبٍ فِيهِمْ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَعَرَّسَ قَرِيبًا مِنْ بَعْضِ الْمِيَاهِ، فَاحْتَلَمَ فَاسْتَيْقَظَ وَقَدْ أَصْبَحَ فَلَمْ يَجِدْ فِي الرَّكْبِ مَاءً فَرَكِبَ، وَكَانَ الرَّفْعُ حَتَّى جَاءَ الْمَاءَ فَجَلَسَ عَلَى الْمَاءِ يَغْسِلُ مَا فِي ثَوْبِهِ مِنَ الِاحْتِلَامِ فَلَمَّا أَسْفَرَ، قَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: أَصْبَحْتَ دَعْ ثَوْبَكَ يُغْسَلُ، وَالْبَسْ بَعْضَ ثِيَابِنَا فَقَالَ: «وَاعَجَبًا لَكَ يَا عَمْرُو لَئِنْ كُنْتَ تَجِدُ الثِّيَابَ أَفَكُلُّ الْمُسْلِمِينَ يَجِدُونَ الثِّيَابَ؟ فَوَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتُهَا لَكَانَتْ سُنَّةً، بَلِ أَغْسِلُ مَا رَأَيْتُ، وَأَنْضَحُ مَا لَمْ أَرَ»
یحییٰ بن عبدالرحمٰن بنحاطب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ وہ کچھ دوسرے لوگوں کے ہمراہ حضرت عمر کے ہمراہ عمرہ کرنے کے لیے گئے اُن دوسرے لوگوں میں حضرت عمرو بن العاص موجود تھے رات کے وقت اُنہوں نے پانی کے قریب کسی جگہ پڑاؤ کیا حضرت عمر کو احتلام ہو گیا تھا جب وہ اُٹھے تو صبح ہو چکی تھی اور اُن کے ساتھیوں میں سے کسی کے پاس پانی نہیں تھا حضرت عمر سوار ہوئے اور تیزی سے چلتے ہوئے پانی تک پہنچے اور پھر وہ پانی کے قریب بیٹھے اور اُنہیں اپنے کپڑے جس جگہ احتلام کا نشان نظر آیا تھا اُسے دھونے لگے جب صبح اچھی طرح روشن ہو گئی تو حضرت عمرو بن العا ص نے اُن سے کہا: جناب صبح ہو چکی ہے آپ اپنے کپڑے کو دھونا چھوڑیں اور ہمارے کپڑے میں سے کوئی کپڑ ا پہن لیں۔ تو حضرت عمر نے فرمایا: اے عمرو! تم پر حیرانگی ہوتی ہے تمہارے پاس تو اور کپڑے ہیں کیا سب لوگوں کے پاس اور کپڑے ہوں گے اللہ کی قسم ! اگر میں ایسا کر لیتا تو یہ چیز معمولی بن جاتی جی ہاں! مجھے جس جگہ نظر آئے گا میں اُسے دھو لوں گا اور جہاں نظر نہیں آئے گا وہاں پانی چھڑک لوں گا ۔
أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The semen's door hits the garment, and its location is unknown · Hadith 1448
