مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ وَقْتِ الظُّهْرِ · حديث 2060
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: قَدِمَ عُمَرُ مَكَّةَ فَأَذَّنَ لَهُ أَبُو مَحْذُورَةَ، فَقَالَ لَهُ: «أَمَا خَشِيتَ أَنْ يَنْخَرِقَ مُرَيْطَاؤُكَ؟» قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدِمْتَ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُسْمِعَكُمْ أَذَانِي، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: «إِنَّ أَرْضَكُمْ مَعْشَرَ أَهْلِ تِهَامَةَ حَارَّةٌ، فَأَبْرِدْ، ثُمَّ أَبْرِدْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَذِّنْ، ثُمَّ ثَوِّبْ آتِكَ»
عکرمہ بن خالد بیان کرتے ہیں: حضرت عمر مکہ آئے حضرت ابو محذورہ نے اُن کے لیے اذان دی تو اُنہوں نے اُن سے کہا : کیا تمہیں اس بات کا ندیشہ نہیں ہوا کہ تمہارے گلے کا کوا بھٹ جائے گا تو اُنہوں نے عرض کی : اے امیر المونین! آپ تشریف لائے تو مجھے اچھا لگا کہ اذان کی آواز آپ تک پہنچائے ۔تو حضرت عمر نے فرمایا: اے اہل تہامہ کے گروہ ! تمہاری سرزمین گرم ہے تو تم اسے ٹھنڈا کر و پھر ٹھنڈا کرو ۔ اُنہوں نے دو یا تین مرتبہ ایسا کہا پھر اذان دو پھر تثویب کہو میںتمہارے پاس آجاؤں گا ۔
يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدِمْتَ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُسْمِعَكُمْ أَذَانِي، ← لَهُ: «أَمَا خَشِيتَ أَنْ يَنْخَرِقَ مُرَيْطَاؤُكَ؟» ← قَدِمَ عُمَرُ مَكَّةَ فَأَذَّنَ لَهُ أَبُو مَحْذُورَةَ، ← عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، ← أَيُّوبَ، وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door of the noon time · Hadith 2060
