مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ شُهُودِ الْجَمَاعَةِ · حديث 1988
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى الصَّلَاةِ فَاسْتَقْبَلَ النَّاسَ فَأَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ وَقَالَ: «لَا نَنْتَظِرُ لِصَلَاتِنَا أَحَدًا فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ»، ثُمَّ قَالَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَخَلَّفُ بِتَخَلُّفِهِمْ آخَرُونَ، وَاللَّهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ فَيُجَاءَ فِي أَعْنَاقِهِمْ، ثُمَّ يُقَالُ: اشْهَدُوا الصَّلَاةَ "
1988 - ثابت بن حجاج بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب نماز ادا کرنے کے لیے نکلے اُنہوں نے لوگوں کی طرف رُخ کیا اُنہوں نے مؤذن کو حکم دیا اُس نے اقامت کہی تو اُنہوں نے کہا : ہم اپنی نماز کے لیے کسی کا انتظار نہیں کریں گے ۔ جب اُنہوں نے نماز مکمل کی تو وہ لوگوں کی طرف توجہ ہوئے اور بولے : لوگوں کو کیا ہو گیا ہے وہ پیچھے رہ جاتے ہیں اللہ کی قسم ! میں نے ارادہ کیا کہ میں اُن کی طرف پیغام بھیجوں اور پھر اُنہیں گردن سے پکڑ کر لایا جائے اور کہا جائے : نماز میں شریک ہو جاؤ۔
«لَا نَنْتَظِرُ لِصَلَاتِنَا أَحَدًا فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ»، ثُمَّ ← خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى الصَّلَاةِ فَاسْتَقْبَلَ النَّاسَ فَأَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ ← ثَابِتُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The section of the Witnesses of the Congregation · Hadith 1988
