مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ فِي السَّفَرِ، وَالصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ · حديث 1904
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: سَمِعَ الْإِقَامَةَ فِي السَّفَرِ، وَظَنَّ أَنَّهُ مُدْرِكُهَا أَوْ بَعْضَهَا فَحَقٌّ عَلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهَا، وَمَنْ ظَنَّ أَنَّهُ غَيْرُ مُدْرِكِهَا فَلَا حَقَّ عَلَيْهِ؟ قُلْتُ: أَرَأَيْتَ مَنْ سَمِعَ الْإِقَامَةَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ حَقٌّ عَلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَ الصَّلَاةَ إِذَا سَمِعَهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ، إِنْ لَمْ يَكُنْ مَشْغُولًا فِي رَحْلِهِ»
1904 – ابن جریح بیان کرتے ہیں میں نے عطا ء سے دریافت کیا : ایک شخص سفر کے دوران اقامت کی آواز سنتا ہے اور وہ یہ گمان کرتا ہے کہ وہ نماز تک پہنچ جائے یا نماز کے کچھ حصہ کو پا لے تو کیا اُس پر یہ بات لازم ہو گی وہ نماز میں شریک ہو؟ا اور جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ وہ نماز تک نہیں پہنچ پائے گا تو اُس پر یہ بات لازم نہیں ہوگی ۔ میں نے کہا: اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو شخص عرفہ کی شام اقامت سنتا ہے تو کیا اُس پر یہ بات لازم ہے کہ جب وہ اقامت کی آواز سنے تو نماز کے لیے آئے ؟ اُنہوں نے جواب دیا : جی ہاں! اگر وہ اپنی رہائشی جگہ پر مصروف نہیں پوتا ۔
قُلْتُ لِعَطَاءٍ: ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter on the ears when traveling, and prayer when traveling · Hadith 1904
