مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي فَرْضِ الصَّلَاةِ · حديث 1772
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ قَالَ: خَاصَمَ نَافِعُ بْنُ الْأَزْرَقِ ابْنِ الْعَبَّاسِ، فَقَالَ: هَلْ تَجِدِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ»، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْهِ: {فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ} [الروم: 17] «الْمَغْرِبُ وَالْفَجْرُ»، {وَعَشِيًّا} [مريم: 11] الْعَصْرُ " {وَحِينَ تُظْهِرُونَ} [الروم: 18] «الظُّهْرُ» قَالَ: {وَمِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ} [النور: 58]
ابورزین بیان کرتے ہیں: نافع بن ازرق کی حضرت عبداللہ بن عباس سے بحث ہو گئی اُس نے یہ کہا کہ آپ پانچ نمازوں کا ذکر قرآن میں پاتے ہیں؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس نے جواب دیا : جی ہاں! پھر حضرت عبداللہ نے اُن کے سامنے یہ آیت تلاوت کی : تو اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرو اُس وقت جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو ۔ اس سے مراد مغرب اور عشا ء ہے ۔ اور شام سے مراس عصر ہے اور اُس وقت ظہر کرتے ہیں اس سے مراد ظہر ہے اور عشا ء کی نماز کے بعد ۔
«نَعَمْ»، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْهِ: «الْمَغْرِبُ وَالْفَجْرُ»، الْعَصْرُ «الظُّهْرُ» ← هَلْ تَجِدِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْقُرْآنِ؟ ← خَاصَمَ نَافِعُ بْنُ الْأَزْرَقِ ابْنِ الْعَبَّاسِ، ← اَبِیْ رَزَینٍ ← عَاصِمٍ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter What came in the obligatory prayer · Hadith 1772
