مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ اللَّغَطِ، وَرَفْعِ الصَّوْتِ، وَإِنْشَادِ الشِّعْرِ فِي الْمَسْجِدِ · حديث 1712
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عَبْدِ الْقُدُّوسِ قَالَ: أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعَ عُمَرُ رَجُلًا رَفَعَ صَوْتَهُ فَقَالَ: «مِمَّنْ أَنْتَ؟» قَالَ: مِنْ ثَقِيفٍ قَالَ: «مِنْ أَيِّ الْأَرْضِ؟» قَالَ: مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ قَالَ: «أَمَا أَنَّكَ لَوْ أَنَّكَ كُنْتَ مِنْ أَهْلِ بَلَدِنَا هَذَا لَأَوْجَعْتُكَ ضَرْبًا، إِنَّ مَسْجِدَنَا هَذَا لَا يُرْفَعُ فِيهِ الصَّوْتُ»
حضرت عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں: حضرت عمر نے ایک شخص کو بلند آواز کرتے ہوئے سنا تو دریافت کیا: تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ اُس نے جواب دیا : ثقیف قبیلہ سے حضرت عمر نے دریافت کیا : کون سے علاقے سے ہے ؟ اُس نے کہا: اہل طائف سے تو حضرت عمر نے فرمایا: اگر تم ہمارے شہر کے رہنے والے ہوتے تو میں تمہاری شدید پٹائی کرتا ہماری مسجد میں آواز کو بلند نہیں کیا جاتا ۔
مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ ← «مِنْ أَيِّ الْأَرْضِ؟» ← مِنْ ثَقِيفٍ ← مِمَّنْ أَنْتَ؟ ← عُمَرُ رَجُلًا رَفَعَ صَوْتَهُ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَبْدِ الْقُدُّوسِ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door to confusion, raising the voice, and chanting poetry in the mosque · Hadith 1712
