مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الْقِيَامِ فِيمَا يُقْعَدُ فِيهِ · حديث 3490
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ قَامَ فِي رَكْعَتَيْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ - أَوْ أَرَادَ الْقِيَامَ - قَالَ: مَا رَأَيْتُ طَاوُسًا إِلَّا شَكَّ أَيَّهُمَا فَعَلَ؟ نَهَضَ أَوْ أَرَادَ النُّهُوضَ - ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فَقَالَ: «أَصَابَ لَعَمْرِي» قُلْتُ: وَأَخْبَرَكَ أَنَّهُ سَجَدَهَا قَبْلَ التَّسْلِيمِ أَوْ بَعْدُ؟ قَالَ: «لَا أَدْرِي»
3490 – عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں: طاؤس نے اُنہیں بتایا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن زبیر مغرب کی نماز میں دو رکعات ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوئے ۔ اُنہوں نے کھڑے ہونے کا ارادہ کیا ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے طاؤس کو دیکھا کہ آُنہیں یہ شک تھا اُنہوں نے ان دو میں سے کیا کیا تھا کیا وہ کھڑے ہو گئے تھے ؟ یا اُنہوں نے کھڑے ہونے کا ارادہ کیا تھا ؟ جب وہ بیٹھے ہوئے تھے تو اُنہوں نے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس کے سامنے اس بات کا ذکر کیا تو اُنہوں نے فرمایا: مجھے اپنی زند گی کی قسم ہے ! اُنہوں نے ٹھیک کیا ہے ۔
عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 3490
