مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ · حديث 3249
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَوْمٍ مِنَ الْأَعْرَابِ كَانُوا أَسْلَمُوا، وَكَانْتِ الْأَحْزَابُ خَرَّبَتْ بِلَادَهُمْ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو لَهُمْ بَاسِطًا يَدَيْهِ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَقَالَ لَهُ أَعْرَابِيٌّ: امْدُدْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي قَالَ: فَمَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُمَا فِي السَّمَاءِ "
3249 - ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کا گزر کچھ دیہاتوں کے پاس سے ہوا جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا اور جن کے علاقے جنگوں کی وجہ سے خراب ہو چکے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کے لیے دعا کرنے کے لیے اپنے ہاتھ چہرے کی طرف بلند کیے تو ایک دیہاتی نے عرض کی یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ اور پھیلائے تو نبی اکرمﷺ نےا پنے چہرے کی طرف اُنہیں اور پھیلا دیا ۔ آپ نےان ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند نہیں کیا تھا ۔
أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door of raising the hands in supplication · Hadith 3249
