مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّسْبِيحِ وَالْقَوْلِ وَرَاءَ الصَّلَاةِ · حديث 3189
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَصْلَتَانِ لَا يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَهُمَا يَسِيرٌ، وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ» قَالُوا: وَمَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «يُسَبِّحُ أَحَدُكُمْ عَشْرًا، وَيَحْمَدُ عَشْرًا، وَيُكَبِّرُ عَشْرًا فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، فَتِلْكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ، وَإِذَا [ص:234] أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ كَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَهُ وَسَبَّحَهُ مِائَةً، فَتِلْكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ، فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي يَوْمِهِ وَلَيْلَتِهِ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَمِائَةِ سَيِّئَةٍ؟» قَالَ: وَلَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُدُّ هَكَذَا، وَعَدَّ بِأَصَابِعِهِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ لَا نُحْصِيهَا؟ قَالَ: " يَأْتِي أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ فِي صَلَاتِهِ فَيَقُولُ لَهُ: اذْكُرْ حَاجَةَ كَذَا وَحَاجَةَ كَذَا حَتَّى يَنْصَرِفَ وَلَمْ يَذْكُرْ، وَيَأْتِيهِ عِنْدَ مَنَامِهِ فَيُنَوِّمُهُ وَلَمْ يَذْكُرْ "، عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
3189 - حضرت عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : دو معمولات ایسے ہیں جنہیں جو بھی مسلمان اختیار کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور یہ دونوں آسمان ہیں اور ان پر عمل کرنے والے بہت کم لوگ ہیں ۔ لوگوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! وہ کون سے ہیں: آپ نے فرمایا: کسی شخص کا ہر فرض نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ دس مرتبہ الحمداللہ دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھنا جو زبان پر پڑھنے کے حوالے سے روزانہ کے ایک سو پچاس کلمات ہوں گے لیکن نامہ اعمال میں ایک ہزار پانچ سو ہوں گے اور جب کوئی شخص اپنے بستر پر جائے تو وہ ایک مرتبہ اللہ اکبر الحمداللہ سبحان اللہ پڑھے تو یہ زبان پر پڑھنے کے اعتبار سے ایس سو ہوں گے اور نامہ اعمال میں ایک ہزار ہوں گے تو تم میں سے کون شخص ایسا ہے جو روزانہ دو ہزار پانچ گنا کرتا ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا کہ آپ اُنہیں اپنی اُنگلیوں پر یوں شما ر کروا رہے تھے ۔ لوگوں نے عرض کی ا: یا رسول اللہ! ہم اسے باقاعدگی سے کیوں ادا نہیں کر سکتے ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی ایک شخص نماز ادا کر رہا ہوتا ہے شیطان اُس کے پاس آتا ہے اور اُس سے کہتا ہے : تم فلاں کام کو اور فلاں کا م کو یاد کرو یہاں تک کہ آدمی نماز ختم کر کے اُس کام کی طرف چلا جائے اور اُسے یہ پڑھنا یاد نہیں رہتا اسی طرح جب آدمی سونے لگتا ہے تو شیطان آدمی کے پاس آکے آُسے سلام دیتا ہے اور آدمی کو یہ پڑھنا یاد نہیں رہتا ۔
عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter of praise and utterance after prayer · Hadith 3189
